BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 March, 2008, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوبامہ کی مشیر مستعفی
ہیلری کلنٹن
ہیلری کلنٹن کے مشیران نے مس پاور سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا
امریکی صدارتی امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ کی ایک مشیر نے ہیلری کلنٹن کو ’ایک عفریت‘ کہنے کی خبر کی اشاعت کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

سکاٹ مین نامی اخبار میں اوبامہ کی مشیر سمانتھا پاور کے حوالے سے شائع ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ وہ (ہیلری کلنٹن) ایک بلا ہیں ، یہ آف دی ریکارڈ ہے، وہ بہت ہی چھوٹی حرکتیں کر رہی ہیں‘۔

سمانتھا پاور نے اپنے ان الفاظ پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مس پاور ہارڈورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ باراک اوبامہ کو خارجہ پالیسی پر مشورے دیتی ہیں۔

سن دو ہزار تین میں پولیزر پرائز جیتنے والی سمانتھا پاور نے اوہائیو میں ہیلری کلنٹن کی انتخابی حکمت عملی سے متعلق اخبار سکاٹ مین سے گفتگو کے دوران یہ بات کہی تھی۔ اس ریاست میں نیویارک کی سینیٹر ہیلری کلنٹن نے گزشتہ منگل کو امریکی صدارتی دوڑ کے پرائمری انتخابات میں فتح حاصل کی تھی۔

اوبامہ کی مہم کے ایک ترجمان بل برٹن کا کہنا تھا کہ سینیٹر اوبامہ ان الفاظ میں کسی کی کردار کشی کیے جانے کی مذمت کرتے ہیں اور اس کی ان کی مہم میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

مس پاور کے استعفی دینے سے ذرا دیر قبل ہیلری کلنٹن کے مشیران نے ایک اخباری کانفرنس میں مس پاور سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ سمانتھا پاور پہلے ہی ان الفاظ پر معافی مانگ چکی ہیں اور اوبامہ کی مہم کی جانب سے بھی ان کے ان الفاظ کی مذمت کی جا چکی ہے۔

سمانتھا پاور
سمانتھا پاور پہلے ہی اپنے الفاظ پر معافی مانگ چکی ہیں

مس پاور نے اس ہفتے کے آغاز پر اوبامہ کی عراق سے متعلق پالیسی کے حوالے سے بی بی سی کو جو انٹرویو دیا تھا اس سے امریکہ بھر میں ہلچل پیدا ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ باراک اوبامہ اگر جیت جاتے ہیں تو وہ اپنی اس بات پر از سر نو غور کریں گے کہ عراق سے سولہ ماہ کے اندر فوجیں واپس بلائی جائیں یا نہیں۔ یاد رہے کہ اوبامہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہتے رہے ہیں کہ عراق سے سولہ ماہ میں فوجیں واپس بلانا ان کی ترجیح ہو گی۔

کلنٹن کیمپ نے ان کے اس بیان پر تنقید کی ہے۔ مسز کلنٹن نے مسیپسی میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا:’ اوبامہ فوج کی واپسی سے متعلق کوئی واضح اوقات کار نہ دینے پر مجھ پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں تاہم اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ ان کے پاس تو خود فوجوں کی واپسی سے متعلق کوئی واضح تاریخ نہیں ہے درحقیقت ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ باراک اوبامہ کے مندوبین کی تعداد 1564 ہے جبکہ ہیلری کلنٹن کے مندوبین کی تعداد 1463 ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار کو پارٹی امیدوار بننے کے لیے دوہزار پچیس مندوبین کی ضرورت ہے۔ ٹیکساس میں ہونے والے پارٹی کوکس (پارٹی اجلاس) میں منتخب ہونے والے مندوبین کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

براہ راست منتخب ہونے والے مندوبین کے علاوہ سپر مندوب بھی ہوتے ہیں جن کی اکثریت پارٹی کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہے۔

اوبامہ’اوبامہ غلط ہیں‘
’القاعدہ اوبامہ کی فتح کے لیے دعا گو ہو گی‘
ہیلیریہیلری گر گئیں
بش کی ممکنہ حریف تقریر کے دوران گرگئیں
صدارتی انتخاب 08
بارک اوبامہ امریکی صدارت کے امیدوار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد