BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 March, 2008, 00:22 GMT 05:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیلری اوہایو، ٹیکساس میں فاتح
ہیلری کلنٹن
ہیلری کلنٹن مسلسل بارہ شکستوں کے بعد دوبارہ بڑی کامیابی حاصل کی ہے
امریکہ کی صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن نے ریاست اوہایو، ٹیکساس اور روہوڈ آئیلنڈ میں اپنے حریف باراک اوبامہ کو شکست دے دی ہے جبکہ ریاست ورماؤنٹ میں باراک اوبامہ نے ہیلری کلنٹن کو شکست دی ہے۔

رہوڈ آئیلنڈ میں ہیلری کلنٹن نے فتخ حاصل کر کے باراک اوبامہ کی مسلسل بارہ فتوحات کا سلسلہ ختم کر دیا۔

اوہایو کے شہر کولمبس میں ہیلری نے کہا کہ وہ صدارتی دوڑ میں اوباما کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ ’کہا جاتا ہے کہ اوہایو کی طرز پر امریکہ چلتا ہے۔ اس لیے امریکہ اور یہ مہم ابھی جاری ہے اور جاری رہے گی۔‘

دوسری طرف ٹیکساس میں اوباما نے ہیلری کو مبارباد دی لیکن کہا کہ ان کو ابھی بھی ہیلری پر فوقیت حاصل ہے۔

نتائج کے اعلان سے قبل اوباما نے مکین کی عراق پر پالیسیوں کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر بش کی عراق پالیسی کو جاری رکھیں گے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق اوباما کو ابھی بھی ہیلری پر فوقیت حاصل ہے۔

مائیک ہکابی
مائیک ہکابی صدراتی دوڑ سے علیحدہ ہو گئے ہیں

ادھر ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار جان مکین مندوبین کی مطلوبہ تعداد حاصل کر کے پارٹی کے امیدوار نامزد ہوگئے ہیں اور ان کے حریف مائیک ہکابی نے صدراتی دوڑ سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صدارتی امیدواروں کی اس دوڑ میں ساری توجہ ڈیموکریٹ امیدواروں، ہیلری کلنٹن اور باراک اوبامہ پر مرکوز ہے۔مبصرین کا کہنا تھا کہ اگر ٹیکساس اور اوہایو میں ہیلری کلنٹن کو شکست ہو جاتی تو ان پر دباؤ بڑھ جاتا کہ وہ صدارتی امیدواروں کی دوڑ سے دستبرادار ہو جائیں۔

باراک اوبامہ گیارہ ریاستوں میں ہونے والے پرائمری ووٹنگ میں مسلسل ہیلری کلنٹن کو شکست دے چکے ہیں لیکن مندوبین کی تعداد باراک اوبامہ کو ہیلری کلنٹن پر صرف ایک سو نو مندوبین کی برتری حاصل ہے۔

ڈیموکریٹ امیدوار کو پارٹی امیدوار بننے کے لیے دوہزار پچیس مندوبین کی ضرورت ہے جبکہ باراک اوبامہ کے مندوبین کی تعداد تیرہ سو پچاسی ہے جبکہ ہیلری کلنٹن کے منتخب مندوبین کی تعداد بارہ سو چھہتر ہے ۔ براہ راست منتخب ہونے والے مندوبین کے علاوہ سپر مندوب بھی ہوتے ہیں جن کی اکثریت پارٹی کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد