ویومنگ، اوبامہ نے ہیلری کو ہرا دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کی دوڑ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے باراک اوبامہ نے ریاست ویومنگ میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔انہوں نے اپنی حریف ہیلری کلنٹن کو اڑتیس کے مقابلے اکسٹھ فیصد ووٹوں سے مات دی ہے۔ مندوبین کی حیثیت سے باراک اوبامہ مجموعی طور پر پہلے ہی سے آکے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے ٹیکساس میں ہیلری کلنٹن کی جیت سے ان کی مہم کو جو دھچکہ لگا ہے اس میں وہ دوبارہ جان ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست ویومنگ سے صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے صرف بارہ مندوبین نمائندے ہی آتے ہیں جس میں سے باراک اوبامہ کو سات اور ہیلری کلٹن کو پانچ نمائندے ملے ہیں۔ صدراتی امیدوار کے انتخاب کے لیے ڈیموکریٹ کی لڑائی کا اگلا پڑاو مسیسپّی ہے۔ ویومنگ میں جیت کے بعد بارک اوبامہ کے پاس پندرہ سو اٹھہتر نمائندے ہیں جبکہ ان کی حریف ہیلری کلنٹن کےحامی نمائندوں کی تعداد چودہ سو اڑسٹھ ہے۔ صدارتی امیدوار چنے جانے کے لیے کل 2025 نمائندوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ریپبلکن پارٹی جان مکین کو پہلے ہی صدارتی امیدوار کے لیے نامزد کر چکی ہے۔ جمعہ کے روز ویومنگ میں بارک اوبامہ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ عراق میں دو ہزار نو میں جنگ ختم کر دیں گے۔ لیکن اس ہفتے کے آغاز پر ان کی ایک سابق مشیر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عراق سے نکلنے کی تاریخ کے معلق وہ صورت حال کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر باراک اوبامہ جیت جاتے ہیں تو وہ اپنی اس بات پر از سر نو غور کریں گے کہ عراق سے سولہ ماہ کے اندر فوجیں واپس بلائی جائیں یا نہیں۔ مسیسپّی میں اپنی مہم کے دوران محترمہ کلنٹن نے بھی عراق سے فوج واپس بلانے کی بات کہی ہے۔انہوں نے باراک اوبامہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا’وہ فوج کی واپسی سے متعلق کوئی واضح اوقات کار نہ دینے پر مجھ پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں تاہم اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ ان کے پاس تو خود فوجوں کی واپسی سے متعلق کوئی واضح تاریخ نہیں ہے درحقیقت ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے۔‘ خبروں کے مطابق دونوں امیدواروں نے فروری میں زبردست رقم بھی جمع کی ہے۔ اوبامہ نے تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ جبکہ مسز کلنٹن نے تقریباً پونے تین کروڑ ڈالر جمع کیے ہیں۔ دونوں کے درمیان جاری اس زبردست مقابلہ آرائی کے دوران ہی باراک اوبامہ نے اس امکان کو مسترد کردیا ہے کہ وہ محترمہ کلٹن کے نائب صدر کی حیثیت سے آسکتے ہیں۔ایک ٹیلی ویژن چینل پرجاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا ’ آپ مجھے نائب صدر کا امیدوار نہیں دیکھیں گے، آپ کو پتہ ہے میں صدر کے لیے لڑ رہا ہوں، ہم نے ہیلری کلنٹن سے دو گنا ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور عام ووٹر بھی ہمارے ساتھ زیادہ ہیں، میرے خیال ہم نمائندوں کی تعداد بھی زیادہ بنائے رکھیں گے۔‘ اس سے پہلے محترمہ کلنٹن نےاشارے کیے تھے کہ وہ باراک اوبامہ کو اپنے نائب صدر کےامید وار کے لیے غور کر سکتی ہیں۔ منگل کو مسیپّی میں مقابلہ ہوگا جہاں تینتنس نمائندے ہیں۔لیکن اس کے بعد پنسیلونیہ میں بائیس اپریل کو مقابلہ ہوگا جہاں ایک سو اٹھاون نمائندوں ہیں۔ اس دوران اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ فلورڈا اور مشیگن میں دوبارہ ووٹنگ ہو یا نہیں۔دونوں ریاستوں کے نمائندوں کو بتا دیا گیا ہے کہ اگست میں صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے ہونے والی نیشنل کنونشن میں وہ حصہ نہیں لے سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ڈیموکریٹ پارٹی کےصدارتی امیدوار کے لیے ووٹنگ سے محروم رہیں گے۔ایسا اس لیے کیاگيا ہے کہ ان دونوں ریاستوں کے نمائدوں نے اصول کے بر عکس پرائمری الیکشن مقررہ وقت پانچ فروری سے پہلے ہی کروالیے تھے۔ | اسی بارے میں اوبامہ کی مشیر مستعفی08 March, 2008 | آس پاس اوبامہ کو نائب صدرات کی پیشکش06 March, 2008 | آس پاس ہیلری اوہایو، ٹیکساس میں فاتح05 March, 2008 | آس پاس اوباما،ہلیری کی ایک اور’جھڑپ‘27 February, 2008 | آس پاس کلنٹن، اوبامہ: الفاظ کی جنگ جاری22 February, 2008 | آس پاس اوبامہ کی پوزیشن مزید مضبوط20 February, 2008 | آس پاس باراک حسین اوبامہ کی ایک اور فتح11 February, 2008 | آس پاس ’سپر ٹیوز ڈے‘ میں ووٹنگ شروع05 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||