BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 March, 2008, 11:24 GMT 16:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویومنگ، اوبامہ نے ہیلری کو ہرا دیا
بارک اوبامہ
بارک اوبامہ کو اس جیت سے ایک نیا حوصلہ ملنے کی امید ہے
امریکہ میں صدارتی امیدواروں کی نامزدگی کی دوڑ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے باراک اوبامہ نے ریاست ویومنگ میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔انہوں نے اپنی حریف ہیلری کلنٹن کو اڑتیس کے مقابلے اکسٹھ فیصد ووٹوں سے مات دی ہے۔

مندوبین کی حیثیت سے باراک اوبامہ مجموعی طور پر پہلے ہی سے آکے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے ٹیکساس میں ہیلری کلنٹن کی جیت سے ان کی مہم کو جو دھچکہ لگا ہے اس میں وہ دوبارہ جان ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریاست ویومنگ سے صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے صرف بارہ مندوبین نمائندے ہی آتے ہیں جس میں سے باراک اوبامہ کو سات اور ہیلری کلٹن کو پانچ نمائندے ملے ہیں۔

صدراتی امیدوار کے انتخاب کے لیے ڈیموکریٹ کی لڑائی کا اگلا پڑاو مسیسپّی ہے۔

ویومنگ میں جیت کے بعد بارک اوبامہ کے پاس پندرہ سو اٹھہتر نمائندے ہیں جبکہ ان کی حریف ہیلری کلنٹن کےحامی نمائندوں کی تعداد چودہ سو اڑسٹھ ہے۔

صدارتی امیدوار چنے جانے کے لیے کل 2025 نمائندوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

ریپبلکن پارٹی جان مکین کو پہلے ہی صدارتی امیدوار کے لیے نامزد کر چکی ہے۔

آپ مجھے نائب صدر کا امیدوار نہیں دیکھیں گے، آپ کو پتہ ہے میں صدر کے لیے لڑ رہا ہوں، ہم نے ہیلری کلنٹن سے دوگنا ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور عام ووٹر بھی ہمارے ساتھ زیادہ ہیں، میرے خیال سے ہم نمائندوں کی تعداد بھی زیادہ بنائے رکھیں گے۔
بارک اوبامہ

جمعہ کے روز ویومنگ میں بارک اوبامہ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ عراق میں دو ہزار نو میں جنگ ختم کر دیں گے۔

لیکن اس ہفتے کے آغاز پر ان کی ایک سابق مشیر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عراق سے نکلنے کی تاریخ کے معلق وہ صورت حال کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر باراک اوبامہ جیت جاتے ہیں تو وہ اپنی اس بات پر از سر نو غور کریں گے کہ عراق سے سولہ ماہ کے اندر فوجیں واپس بلائی جائیں یا نہیں۔

مسیسپّی میں اپنی مہم کے دوران محترمہ کلنٹن نے بھی عراق سے فوج واپس بلانے کی بات کہی ہے۔انہوں نے باراک اوبامہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا’وہ فوج کی واپسی سے متعلق کوئی واضح اوقات کار نہ دینے پر مجھ پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں تاہم اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ ان کے پاس تو خود فوجوں کی واپسی سے متعلق کوئی واضح تاریخ نہیں ہے درحقیقت ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی منصوبہ ہی نہیں ہے۔‘

خبروں کے مطابق دونوں امیدواروں نے فروری میں زبردست رقم بھی جمع کی ہے۔ اوبامہ نے تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ جبکہ مسز کلنٹن نے تقریباً پونے تین کروڑ ڈالر جمع کیے ہیں۔

دونوں کے درمیان جاری اس زبردست مقابلہ آرائی کے دوران ہی باراک اوبامہ نے اس امکان کو مسترد کردیا ہے کہ وہ محترمہ کلٹن کے نائب صدر کی حیثیت سے آسکتے ہیں۔ایک ٹیلی ویژن چینل پرجاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا ’ آپ مجھے نائب صدر کا امیدوار نہیں دیکھیں گے، آپ کو پتہ ہے میں صدر کے لیے لڑ رہا ہوں، ہم نے ہیلری کلنٹن سے دو گنا ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور عام ووٹر بھی ہمارے ساتھ زیادہ ہیں، میرے خیال ہم نمائندوں کی تعداد بھی زیادہ بنائے رکھیں گے۔‘

اس سے پہلے محترمہ کلنٹن نےاشارے کیے تھے کہ وہ باراک اوبامہ کو اپنے نائب صدر کےامید وار کے لیے غور کر سکتی ہیں۔

منگل کو مسیپّی میں مقابلہ ہوگا جہاں تینتنس نمائندے ہیں۔لیکن اس کے بعد پنسیلونیہ میں بائیس اپریل کو مقابلہ ہوگا جہاں ایک سو اٹھاون نمائندوں ہیں۔

اس دوران اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ فلورڈا اور مشیگن میں دوبارہ ووٹنگ ہو یا نہیں۔دونوں ریاستوں کے نمائندوں کو بتا دیا گیا ہے کہ اگست میں صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے ہونے والی نیشنل کنونشن میں وہ حصہ نہیں لے سکیں گے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ڈیموکریٹ پارٹی کےصدارتی امیدوار کے لیے ووٹنگ سے محروم رہیں گے۔ایسا اس لیے کیاگيا ہے کہ ان دونوں ریاستوں کے نمائدوں نے اصول کے بر عکس پرائمری الیکشن مقررہ وقت پانچ فروری سے پہلے ہی کروالیے تھے۔

اسی بارے میں
اوبامہ کی مشیر مستعفی
08 March, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد