BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 February, 2008, 04:30 GMT 09:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باراک حسین اوبامہ کی ایک اور فتح
ہیلری کلنٹن
ہیلری کلنٹن کو صدارتی امیدوار کی دوڑ توقعات سے زیادہ مقابلے کا سامنا کرنا پڑا
امریکی صدارت کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کےامیدوار باراک حسین اوبامہ نے ہیلری کلنٹن کو ریاست مین میں ہونے والی پرائمری ووٹنگ میں شکست دے دی ہے۔

اتوار کے روز ریاست مین میں ہونے والی پرائمری ووٹنگ میں باراک اوبامہ نے ہیلری کلنٹن کو واضح فرق سے ہرا دیا ہے اس طرح ان کے منتخب مندوبین کی تعداد ہیلری کلنٹن کےمندوبین سے زیادہ ہوگئی ہے لیکن ہیلری کلنٹن کو اب بھی ’سپر مندوبین‘ کی مدد سے باراک اوبامہ پر معمولی برتری حاصل ہے۔

ہیلری کلنٹن نے پرائمری ووٹنگ میں پے در پے شکست کے بعد اپنی انتخابی مہم کے انچارج پیٹی سولیس ڈآئل کو بدل کر اپنی درینہ دوست میگی ولیئم کو انتخابی مہم کا انچارج مقرر کیا ہے۔

ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے ذمہ داروں نے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیے باقی ماندہ ریاستوں میں ہلیری کلنٹن کی کامیابی کے بارے عوامی توقعات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کی جانب سے جاری ہونےوالے ایک بیان کے مطابق باقی ریاستی میں ہونے والی پرائمری ووٹنگ میں باراک اوبامہ کو زیادہ فائدہ ملنے کا امکان ہے لیکن ہیلری کلنٹن مقابلہ جاری رکھیں گی۔

ہیلری کلنٹن کی مہم کے ذمہ داروں کے خیال میں ہیلری کلنٹن کی اوہایو اور پینیسلوینیا میں ان کی پوزیشن مضبوط ہے اور ان کو امید ہے کہ لاطینی امریکہ اور سپینش بولنے والے ووٹرز ہیلری کلنٹن کو باراک اوبامہ پر ترجیح دیں گے۔

اسی بارے میں
ہلری اور اوباما کی تکرار
22 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد