اوبامہ امریکہ سے باہر مقبول کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر موقع ملے تو دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ووٹ نہ ڈالے۔ اور اگر الیکشن میں عالمی سطح پر ووٹنگ ہو تو ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین کی ضمانت ضبط ہونے میں دیر نہ لگے۔ تو کیا وجہ ہے کہ دنیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما کو اس قدر مقبولیت حاصل ہے؟ بہت سے لوگوں کے لیے اوباما کی صدارتی مہم ایک ’فئیری ٹیل‘ یا دیومالائی داستان ہے جس کی’ہیپی اینڈنگ‘ کا انہیں انتظار تو ہے لیکن یقین نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اوباما کی جن خوبیوں اور وعدوں نے انہیں عالمی سٹیج پر مقبولیت دلائی ہے، عام امریکیوں کے لیے ان میں زیادہ کشش نہیں۔ ایک عام امریکی شہری کو سستا تیل چاہیے دنیا کی محبتیں نہیں۔ ساتھ ہی اسے اپنے اقتصادی مفاد کا تحفظ چاہیے اور ’دہشت گردوں‘ سے حفاظت۔
باہر کی دنیا کو امریکہ سے حفاظت چاہیے۔ اسلامی/عرب ممالک کو چاہیے کہ امریکہ ان کے معاملات میں دخل انداز نہ ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر انہیں نشانہ نہ بنائے، انہیں جمہوریت اپنانے پر مجبور نہ کرے اور ان کے تیل پر قابض نہ ہونے پائے۔ چین اور روس کو چاہیے کہ امریکہ کی سیاسی/اقتصادی اجارہ داری ختم ہوجائے اور یورپ کو چاہیے کہ عالمی سٹیج پر امریکہ اسے برابری کا رتبہ دے۔ اوباما کو ہم شاید اس لیے زیادہ پسند کرنے لگے ہیں کہ وہ دنیا کو ساتھ لیکر چلنے کا وعدہ کررہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ وہ امریکہ کی یک طرفہ فیصلوں کی پالیسی بدلیں گے، یورپی رفقاء کو وہ رتبہ دیں گے جس کے وہ مستحق ہیں اور عراق کی جنگ ختم کریں گے۔ وہ دنیا میں امریکہ کی ساکھ بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر یہی وعدے جان مکین نے کیے ہوتے تو کیا ہم انہیں بھی اتنا ہی پنسد کرتے؟ غالباً نہیں کیونکہ بہت سے لوگ شاید اس لیے اوباما کے حق میں ہیں کہ جان مکین کی شکست کو وہ صدر بش کی شکست سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور مقبولیت کے جس پیمانے کے ایک سرے پر اوباما ہیں اس کا دوسرے سرا صدر بش نے سنبھال رکھا ہے۔
اوباما کے سیاسی نظریات عالمی سطح پر ان کی مقبولیت کا شاید ضمنی پہلو ہیں۔ دنیا میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کی پر کشش شخصیت اور ان کی حیرت انگیز کہانی سے متاثر ہوئی ہے۔ میں اوباما کو سیاست کے (ٹینس سٹار) جان فیڈرر یا(گولفر) ٹائگر وڈز کے طور پر دیکھتا ہوں۔ صاف ستھرا کردار ، انداز میں شائستگی اور مزاج میں عزم۔ اور جب وہ تقریر کرتے ہیں تو لوگ سننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں، دیکھنے میں کسی فلم سٹار یا ماڈل سے کم نہیں اور ان کی مسکراہٹ ان کے مداحوں کے دلوں میں اتر گئی ہے۔ ہمیں اصل زندگی میں بھی ہیروز کی تلاش رہتی ہے اور جان مکین اور اوباما میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہمارے لیے مشکل نہ تھا۔ امریکہ میں نسل پرستی کوئی راز نہیں۔ مارٹن لوتھر کنگ نے صرف پنتالیس برس پہلے وہ انقلابی تقریر کی تھی جو ’ آئی ہیو اے ڈریم‘ (میرا ایک خواب ہے) کے عنوان سے تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ اتنے کم عرصے میں کسی سیاہ فام سیاست دان کا وہائٹ ہاؤس کے اتنے قریب پہنچ جانا غیر معمولی بات ہے۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس ’فئیری ٹیل‘ کی ’ہیپی اینڈنگ‘ ہوگی یا نہیں۔ باہر کی دنیا نے تو اپنا فیصلہ پہلے ہی سنا دیا ہے لیکن لگتا ہے کہ چار نومبر کے انتخاب سے قبل باراک حسین اوباما کی اس حیرت انگیز داستان میں ابھی کئی نشیب و فراز آنا باقی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||