ہیلری کی مقبولیت، اوبامہ کی ضرورت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں سینیٹر ڈایان فائنسٹائن کے گھر پر ہیلری کلنٹن اور باراک اوبامہ کے درمیان ہونے والی ون ٹو ون بات چیت کی تفصیلات کسی کو معلوم نہیں ہیں۔ ملاقات کے دوران اوبامہ اور ہیلری کے مشیروں اور سکیورٹی گارڈز کو کمرے سے باہر ہی رکھا گیا تھا۔ فریقین نے ایک گھنٹے کی ملاقات کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا ہے۔ اگر نائب صدرات کے امیدوار کے عہدے کے لیے دونوں نے بات چیت نہ بھی کی ہو تب بھی اتنا ضرور ہے کہ ان کے سامنے کافی سیاسی پیچیدگیاں رہی ہوں گی۔ اس وقت امریکی سیاست میں یہ قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ کیا باراک اوبامہ ہیلری کلنٹن کو نائب صدارت کے لیے اپنا انتخابی ساتھی چنیں گے۔ امریکی صدارت کے لیے ڈیموکریٹِک امیدوار باراک اوبامہ کے سامنے کئی چیلنجز ہیں۔ انہیں ان سترہ ملین ووٹروں کو اپنے ساتھ لانا ہوگا جنہوں نے ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیا تھا۔ ساتھ ہی اوبامہ کو ابھی یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ڈیموکریٹِک پارٹی کے مؤثر رہنما ہوسکتے ہیں۔
فی الحال اوبامہ اپنی سابق حریف ہیلری کلنٹن کی تعریفیں کررہے ہیں اور ان سے ملاقات بھی کی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نائب صدر کے لیے اپنا انتخابی ساتھی چننے میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہتے۔ ساتھ ہی باراک اوبامہ نہیں چاہتے کہ ریپبلیکن پارٹی کے نامزد امیدوار کے خلاف ان کی انتخابی مہم پر ’ہیلری ایشو‘ چھایا رہے۔ لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان سترہ ملین ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جنہوں نے ہیلری کو ووٹ دیا تھا انہیں ہیلری کی ضرورت پڑے گی۔ امریکہ کے جن سفیدفام ملازمت پیشہ نے ہیلری کلنٹن کو ووٹ دیا تھا انہیں اپنی طرفداری باراک اوبامہ کے حق میں کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔ سینیٹر کلِنٹن صدارت کے لیے نامزدگی کی دوڑ میں شکست کھاگئی ہیں لیکن ان کی پوزیشن پہلے سے قدرے بہتر ہے۔ انہوں نے خود کو ایک مقبول رہنما کے طور پر ثابت کیا ہے۔ سنیچر کے روز ان کا خطاب اہم ہوگا جس میں وہ پارٹی امیدوار باراک اوبامہ کی حمایت کا اظہار کریں گی۔ اور ڈیموکریٹس کو معلوم ہے کہ اوبامہ کے خلاف تنقید سے بھری طویل انتخابی مہم کے بعد یہ ہیلری کلِنٹن کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔
سینیٹر کلِنٹن کے سامنے ایک چیلنج ہے۔ ڈیموکریٹِک پارٹی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ گزشتہ اتوار کو باراک اوبامہ کی تاریخی فتح کو نظرانداز کرکے ہیلری کلنٹن نے ایک غلطی کی ہے۔ دوسری جانب اوبامہ کی انتخابی ٹیم اس بات سے خوش نہیں ہے کہ وہ ہیلری کے مشیروں نے اس طرح کی کوششیں شروع کردی ہیں کہ اوبامہ انہیں نائب صدارت کے لیے امیدوار نامزد کریں۔ ساتھ ہی ان کے شوہر اور سابق صدر بِل کلِنٹن کا معاملہ بھی سامنے ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق باراک اوبامہ شاید اس لیے ہیلری کلِنٹن کو نائب صدرات کے امیدوار کے لیے نہ منتخب کریں کیوں کہ اس صورت میں ان کے شوہر کی وائٹ ہاؤس میں مداخلت کا امکان ہے۔ لیکن اوبامہ کو شاید اس بات کا خیال رکھنا پڑے کے ڈیموکریٹِک پارٹی میں بِل کلنٹن کا کردار وسیع تر ہے۔ اور اگر ہیلری کلِنٹن اور بِل کلِنٹن بھی ان کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہیں تو یہ ثابت کرنا مشکل ہوجائے گا کہ اوبامہ امریکہ میں ’تبدیلی‘ لاسکیں گے۔ یاد رہے کہ اپنی مہم کے دوران باراک اوبامہ نے ووٹروں سے امریکہ میں تبدیلی کی ضرورت پر حمایت طلب کی ہے۔ | اسی بارے میں براک اوباما کون ہیں؟04 June, 2008 | آس پاس اسرائیلی سلامتی ’مقدس‘ ہے: اوباما04 June, 2008 | آس پاس اوبامانےاپنی کامیابی کا اعلان کر دیا04 June, 2008 | آس پاس ہیلری، باراک اوبامہ کی حمایت پر تیار05 June, 2008 | آس پاس واشنگٹن میں اوباما، کلنٹن ملاقات06 June, 2008 | آس پاس صدارت کی دوڑ سے علیحدگی عنقریب 07 June, 2008 | آس پاس اوباما نے صحافی سے معافی مانگ لی15 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||