واشنگٹن میں اوباما، کلنٹن ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی نامزدگی کے امیدوار باراک اوباما اور اس دوڑ میں ان کی مخالف ہیلری کلنٹن کے درمیان واشنگٹن میں ایک غیر اعلانیہ ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات باراک اوباما کی طرف سے امریکہ کی صدارتی نامزدگی کی مہم میں ہیلری کلنٹن کو شکست دینے کے دو دن بعد ہوئی۔ اوباما کے ایک ترجمان نے کہا کہ دونوں سابق مخالفین نے ملاقات میں اس بات پر غور کیا کہ کس طرح انتخابی مہم کو یکجا طریقے سے چلایا جائے اور جماعت کو متحد کیا جائے۔ ہیلری کلنٹن ان خبروں پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کر رہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ نائب صدر کے طور پر اوباما کی ساتھی بن رہی ہیں۔ الی نوئے کے سینیٹر اوباما پر کلنٹن کے حامیوں کی طرف سے شدید دباؤ ہے کہ وہ ہیلری کلنٹن کو اپنی نائب صدر کے طور پر اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی ٹیم سے مشورے کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے اور جلد بازی سے اجتناب کریں گے۔
اس سے پہلے سینیٹر کلنٹن نے اپنے حامیوں کv بھیجی جانے والی ایک ای میل میں کہا تھا کہ وہ سنیچر کو واشنگٹن میں پارٹی کی ایک تقریب میں اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سینیٹر اوباما کو مبارکباد دیں گی اور ان کی انتخابی مہم میں حمایت کا اعلان کریں گی۔ منگل کو آخری پرائمری ووٹنگ کے بعد سینیٹر اوباما نے پارٹی کی نامزدگی کے لیے درکار مندوبین کی تعداد حاصل کرنے کے بعد اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا تھا تاہم سینیٹر ہیلری کلنٹن نے شکست تسلیم نہیں کی تھی اور اپنی تقریر میں بھی نامزدگی کی مہم سے دستبردار ہونے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ہیلری کلنٹن نے اس اعلان میں تاخیر اس لیے کی تاکہ وہ نائب صدر کے لیے امیدوار بننے کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کر سکیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے نائب صدر کے امیدوار کی تقرری کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں مقتول صدر جان ایف کینیڈی کی بیٹی کیرولائن کینیڈی، سابق اٹارنی جنرل ایِرک ہولڈر اور جِم جانسن شامل ہیں۔ اوباما کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمیٹی ان کو نائب صدارت کے امیدوار کو چننے کے معاملے میں مشورہ دے گی لیکن حتمی فیصلہ ان کا ہی ہوگا۔ پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے دو ہزار ایک سو اٹھارہ مندوبین کی حمایت درکار تھی اور منگل کو سینیٹر اوباما نے دو ہزار ایک سو چون مندوبین کی حمایت حاصل کر لی تھی۔ سینیٹر کلنٹن کے پاس ایک ہزار نو سو انیس مندوبین کی حمایت حاصل ہے۔ |
اسی بارے میں اوبامانےاپنی کامیابی کا اعلان کر دیا04 June, 2008 | آس پاس اسرائیلی سلامتی ’مقدس‘ ہے: اوباما04 June, 2008 | آس پاس نہیں ابھی نہیں: ہیلری کلنٹن03 June, 2008 | آس پاس ہلری کلنٹن کی مہم کوایک اور دھچکا01 June, 2008 | آس پاس امریکہ:ڈیموکریٹک پارٹی کا اہم اجلاس31 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||