BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 June, 2008, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلری کلنٹن کی مہم کوایک اور دھچکا
رولز کمیٹی نے فیصلہ دیا ہے کہ فلوریڈا اور مشیگن کے رکن اگست میں ہونے والے سالانہ پارٹی کنونشن میں شامل تو ہو سکتے ہیں
امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دعویدار ہلری کلنٹن کی نامزدگی حاصل کر نے کی کوششوں کو رولز کمیٹی کے فیصلے سے دھچکا لگا ہے۔

رولز کمیٹی نے سنیچر کے روز فیصلہ کیا تھا کہ فلوریڈا اور مشیگن کے رکن اگست میں ہونے والے سالانہ پارٹی کنونشن میں شامل تو ہو سکتے ہیں لیکن ان کا ووٹ آدھا ہوگا۔

اگرچہ اس فیصلے سے ہلری کلنٹن کے لیے صورت حال قدرے بہتر تو ہوگئی لیکن وہ ابھی بھی باراک اوبامہ سے پیچھے ہیں جن کی مندوبین کی تعداد ہلری سے زیادہ ہے۔

کلنٹن کی مشیر ہیرولڈ اکس کا کہنا ہے کہ ’وہ ابھی بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔‘

تاہم واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد باراک اوبامہ کی کامیابی مزید واضح ہوگئی ہے۔

پارٹی کی رولز کمیٹی نےفلوریڈا اور مشیگن کے ارکان کی اگست میں ہونے والے سالانہ پارٹی کنونشن میں شمولیت کا فیصلہ کلنٹن اور باراک اوباما کے حامیوں کے مابین گرما گرم بحث کے درمیان دیا۔

قواعد کی خلاف ورزی
 فلوریڈا اور مشیگن میں قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوری میں ووٹنگ کروائی گئی تھی اور انہیں سزا دینے کے لیے پارٹی کی قومی قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ اِن دونوں ریاستوں کے نتائج حتمی نتائج میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔ہلری کلنٹن چاہتی تھیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی اپنا فیصلہ بدل دے کیونکہ انہیں ان ریاستوں میں کافی حمایت حاصل ہے۔
مسز کلنٹن چاہتی تھیں کہ کمیٹی ان دو ریاستوں کے حوالے سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر کے فلوریڈا اور مشیگن کے مندوبین کو اگست میں منعقد ہونے والے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن میں ووٹ دینے کی اجازت دے دے۔

اس کنونشن میں مندوبین کے ووٹ نومبر میں منعقد ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے پارٹی کے حتمی امیدوار کا فیصلہ کریں گے۔

اس سے پہلے پارٹی نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی وجہ سے فلوریڈا اور مشیگن کی ریاستوں سے امیدوار منتخب کرنے کے عمل میں شامل ہونےکا حق چھین لیا تھا۔

فلوریڈا اور مشیگن میں قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوری میں ووٹنگ کروائی گئی تھی اور انہیں سزا دینے کے لیے پارٹی کی قومی قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ اِن دونوں ریاستوں کے نتائج حتمی نتائج میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔

ہلری کلنٹن چاہتی تھیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی اپنا فیصلہ بدل دے کیونکہ انہیں ان ریاستوں میں کافی حمایت حاصل ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کلنٹن نے اور نہ ہی اوباما نے وہاں انتخابی مہم چلائی اور مشیگن میں تو اوباما کا نام بھی بیلٹ پیپر پر نہیں تھا۔

مسز کلنٹن ابھی بھی پر امید ہیں کہ وہ ان سپر ڈیلیگیٹس کو، جنہوں نے ابھی تک کسی بھی امیدوار کے حق میں فیصلہ نہیں دیا ہے، اپنی نامزدگی کےلیے راغب کر لیں گی۔

ان کی مشیر نے رولز کمیٹی پر مسز کلنٹن کے ووٹ ’ہائی جیک، کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ’مجھے ہلری نےان کا یہ حق دلانے کے لیے اس معاملے کو کریڈنشل کمیٹی میں اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔‘

اوباما کے حامیوں نے رولز کمیٹی کے اگست میں مشیگن اور فلوریڈا کے مندوبین کو شمولیت کی اجازت دیے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انصاف پر مبنی ہے۔

سُپر ٹیوزڈےسُپر ٹیوزڈے
صدارتی امیدواروں کی قسمت کے فیصلے کا دن۔
ہیلیریہیلری گر گئیں
بش کی ممکنہ حریف تقریر کے دوران گرگئیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد