صدارتی امیدوار کی دوڑ، اوبامہ آگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کے انتخابات میں باراک اوبامہ نے شمالی کیرولائنا میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے جبکہ انڈیانا میں وہ معمولی فرق سے ہیلری کلنٹن سے ہار گئے ہیں۔ سینیٹر اوبامہ نے شمالی کیرولائنا میں چھپن فیصد ووٹ حاصل کیئے اور انڈیانا میں ہیلری کلنٹن کو اکاون فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کے لیے ہونے والے چناؤ میں شمالی کیرولائنا اور انڈیانا دو آخری بڑی ریاستیں تھیں جس کے بعد پانچ ریاستوں میں پارٹی کے مندوبین نے ابھی ووٹ ڈالنے ہیں۔ ان دونوں امیدواروں میں سے جو بھی فتح مند ہوگا وہ وائٹ ہاؤس کے لیے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین کے مدِ مقابل ہوگا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق باراک اوباما کو ہیلری کلنٹن پر ڈیڑھ سو ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ گو کے کوئی امیدوار اپنے مد مقابل کو انتخابی دوڑ سے مکمل طور پر باہر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا لیکن بعض مبصرین کے خیال میں ہیلری کلنٹن کے لیے اس فرق کو پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ انڈیانا میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے حامیوں کے ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ’اب وہ پوری رفتار سے وائٹ ہاؤس کی جانب رواں دواں ہیں۔‘ تاہم انہوں نے یہ وعدہ کیا کہ ڈیموکریٹ پارٹی جس کو بھی اپنا امیدوار منتخب کرتی ہے وہ اس کی بھرپور حمایت کریں گی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بِیل کا کہنا ہے کہ اپنی تمام تر شعلہ بیانی کے باوجود ہیلری کلنٹن میں پہلے جیسی جوش و جذبہ نہیں رہا۔ شمالی کیرولائنا میں اوبامہ کی کامیابی پر جمع ہونے والے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شمالی کیرولائنا سے کھیل کا نقشہ ہی بدل جائے گا۔ لیکن اب صرف اس کھیل کا نقشہ بدلا جانا ہے جو واشنگٹن میں کھیلا جائے گا۔‘ باراک اوبامہ نے مزید کہا کہ اس سے قطع نظر کے کون ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا اس دوڑ میں پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی تلخیوں سے کوئی ایسا شگاف پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا جس کو پاٹا نہ جا سکے۔ شمالی کیرولائنا میں باراک اوبامہ نے چھپن فیصد ووٹ حاصل کیئے اور ہیلری کلنٹن اکتالیس فیصد ووٹ حاصل کر سکیں۔ مبصرین کے مطابق باراک اوبامہ کے لیے شمالی کیرولائنا میں کامیابی بہت اہمیت رکھتی تھی کیوں گزشتہ چند ہفتوں میں وہ کئی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ اس مرحلے تک باراک اوباما کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے مبصرین اس خدشے کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے کہ کیا باراک اوبامہ اکتوبر میں صدارتی معرکہ کے دوران سفید فام اکثریت کی حمایت حاصل کر سکیں گے۔ | اسی بارے میں کیا نامزدگی کا فیصلہ اگست تک ہی ہوگا؟13 March, 2008 | آس پاس ہلری کلنٹن کی اہم ریاست میں جیت23 April, 2008 | آس پاس ’خدا کی مرضی پر عمل کریں گے‘14 April, 2008 | آس پاس ’انتخابی دوڑ سے ہٹنے کا ارادہ نہیں‘30 March, 2008 | آس پاس کلنٹن، اوبامہ: الفاظ کی جنگ جاری22 February, 2008 | آس پاس فلوریڈا: دوبارہ مقابلہ نہیں ہوگا18 March, 2008 | آس پاس ہیلری کلنٹن کو ایک اور شکست13 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||