ابھی لڑوں گی: ہیلری کلنٹن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل امیدوار ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ وہ ابھی وائٹ ہاؤس کی دوڑ سے باہر نہیں ہوئی ہیں اور اپنی مہم جاری رکھیں گی۔ ہیلری کلنٹن نے گزشتہ رات انڈیانا کے انتخابات میں باراک اوباما کو ووٹوں کے بہت کم فرق سے ہرایا لیکن شمالی کیرولائنہ میں انہیں ایک بڑی شکست ہوئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں حالیہ ایک اہم پرائمری میں ناکامی ہوئی ہے اور ان کی انتخابی مہم مالی مسائل سے دوچار ہے، وہ پھر بھی انتخابی عمل میں شریک رہیں گی۔ ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کو کافی مالی مشکلات درپیش ہیں اور گزشتہ ماہ انہوں نے اپنی جیب سے انتخابی مہم کے لیے چھ اعشاریہ چار ملین ڈالر ادھار دیئے تھے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہ جب تک ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی کا اعلان نہیں ہوتا، وہ اس دوڑ میں شامل رہیں گی۔ انہوں نے اپنے ووٹروں سے بھی اپیل کی کہ اس انتخابی جنگ کو جاری رکھنے کے لیے انہیں فنڈز کی ضرورت ہے لہذا لوگ ان کی انتخابی مہم کو درپیش مالی مشکلات دور کرنے میں ان کی مدد کریں۔ بی بی سی کے نامہ نگار جسٹین ویب کا کہنا ہے مبصرین اس صورتِ حال کو ہیلری کے حق میں جاتا ہوا نہیں دیکھ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فنڈ دینے والے ایک شکست خوردہ مقصد کے لیے پیسے نہیں دیں گے۔ اگر انتخابی مہم میں روزانہ اضافہ نہ ہو تو صدارتی انتخاب نہیں لڑا جا سکتا۔ ہیلری کلنٹن کو ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ سنہ 1972 میں ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار جارج میکگورن نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ وہ باراک اوباما کی طرف ہوگئے ہیں اور انہوں نے ہیلری سے کہا ہے کہ وہ انتخابی میدان خالی کر دیں۔ | اسی بارے میں کیا نامزدگی کا فیصلہ اگست تک ہی ہوگا؟13 March, 2008 | آس پاس ہلری کلنٹن کی اہم ریاست میں جیت23 April, 2008 | آس پاس ’خدا کی مرضی پر عمل کریں گے‘14 April, 2008 | آس پاس ’انتخابی دوڑ سے ہٹنے کا ارادہ نہیں‘30 March, 2008 | آس پاس کلنٹن، اوبامہ: الفاظ کی جنگ جاری22 February, 2008 | آس پاس فلوریڈا: دوبارہ مقابلہ نہیں ہوگا18 March, 2008 | آس پاس ہیلری کلنٹن کو ایک اور شکست13 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||