پیکج منظور ہو جائے گا: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ امریکی قانون ساز عالمی مالیاتی صورتِ حال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وال سٹریٹ کے لیے سات سو بلین ڈالر کا مجوزہ ریسکیو پیکج منظور کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اقتصادی ریسکیو منصوبہ بڑا ہے اس لیے اس پر اختلافات پیدا ہوں گے۔ ’اور یہ منصوبہ اس لیے بڑا ہے کیونکہ مسئلہ بھی بڑا ہے۔‘ سینٹ میں اکثریتی رہنما ہیری ریڈ نے جن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے کہا کہ قانون ساز اس وقت تک منصوبے پر بحث کرتے رہیں گے جب تک معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ لیکن حکمراں ریپبلیکن پارٹی کے اراکین جمعہ کو بھی منصوبے پر ناخوش تھے۔ اس منصوبے کے تحت امریکی حکومت بینکوں کے وہ قرضے اپنے ذمے لے گی جن کی ادائیگی مشکوک ہو چکی ہے۔ مسٹر ریڈ نے اس امید کا اظہار کیا کہ جمعہ کی نصف شب تک ایک بل تیار کر لیا جائے گا جس پر اتوار یا پیر کو ووٹنگ ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں صدارتی سیاست زیادہ مفید ثابت نہیں ہوئی بلکہ اس سے نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکمران جماعت کے نامزد صدارتی امیدوار جان مکین نے اس معاملے پر اپنا موقف واضح نہیں کیا۔ تاہم صدر بش کی طرف سے ریسکیو معاہدے کی حمایت کے باجوو بھی وال سٹریٹ میں گھبراہٹ ختم نہیں ہوئی اور شروع دن سٹاکس اتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔ تاہم بعد میں ایک موقع پر سٹاکس میں تیزی آ گئی۔ | اسی بارے میں امریکی معیشت خطرے میں ہے:بش25 September, 2008 | آس پاس امریکہ، بینکوں کا سٹیٹس تبدیل22 September, 2008 | آس پاس مالیاتی بحران:’دنیا ہماری پیروی کرے‘22 September, 2008 | آس پاس ’غیر معمولی‘ اختیارات کا تقاضا21 September, 2008 | آس پاس اربوں ڈالر کے فنڈ کے قیام کی تجویز20 September, 2008 | آس پاس امدادی فنڈ کی خبر، بازار میں تیزی19 September, 2008 | آس پاس مالی بحران کا دائرہ پھیل رہا ہے18 September, 2008 | آس پاس سٹاک پر زوال، سرمایہ کار پریشان 17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||