BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 September, 2008, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مالی بحران، مستقبل میں کیا ہوگا؟
مذاکرات میں امریکی صدارتی امیدواروں نے بھی حصہ لیا
امریکہ کے مالیاتی نظام میں جاری سنگین بحران صرف امریکہ کے لیے ہی بری خبر نہیں بلکہ حالات بہتر نہ ہونے کی صورت میں پوری دنیا براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

تو سوال یہ ہے کہ امریکی حکومت نے سات سو ارب ڈالر کا جو پیکج تیار کیا ہے، وہ کس کام کے لیے استمعال کیا جائے گا؟ اور اگر یہ پیکج واقعی اتنا ضروری ہے تو پھر خود صدر جارج بش کی ہی ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر کیوں اس کی مخالفت کر رہے ہیں؟

پیکج کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

گزشتہ تقریباً دس بارہ برسوں سے امریکہ میں مکانوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی تھیں۔ اس میں غیر ذمہ دار بینکوں نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو مکان خریدنے کے لیے قرض دیے جن کے مالی حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ قسطیں پابندی سے ادا کرسکتے۔( اسی کو سب پرائم مارگیج کہا جاتا ہے)۔ بینکوں نے یہ مارگیج دوسرے بینکوں کو بیچ دیے جیسا کہ سرمایہ کارانہ بینکنگ میں معمول کے مطابق ہوتا ہے۔ اب یہ رقم ڈوب رہی ہے جس کی وجہ سے موجودہ بحران پیدا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے باہر کے بینک بھی اس کی زد میں آرہے ہیں۔

امریکی حکومت اب یہ قرض خریدنا چاہتی ہے تاکہ بینکوں کو درپیش
’لیکویڈٹی‘یا کیش کی کمی کا مسئلہ حل کیا جاسکے۔

ایچ ایس بی سی بینک گیارہ سو ملازمتیں ختم کر رہا ہے۔

پیکج کے حق میں اور اس کے خلاف کیا دلائل ہیں؟

دنیا کے امیر ترین ممالک کی تنظیم جی سات کا کہنا ہے کہ یہ پیکج بین الاقوامی مالیاتی نظام کو بچانے کے لیے ضروری ہے۔ ارب پتی سرمایہ کار وارین بوفیٹ کہتے ہیں کہ اگر یہ رقم فراہم نہ کی گئی تو امریکہ کو ایک ’اقتصادی پرل ہاربر‘ کا سامنا ہوگا۔ ( دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان نے امریکہ کے پرل ہاربر کو تباہ کر دیا تھا۔ اس واقعہ کو تاریخ ساز اہمیت حاصل ہے)

اس بات پر عام اتفاق ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت (امریکہ) میں کساد بازاری سے امریکہ کو تو نقصان ہوگا ہی، ساتھ ہی ان ملکوں کو بھی بھاری نقصان ہوگا جو امریکہ سے تجارت کرتے ہیں۔ پیکج نہ ملنے کی صورت میں مزید بینک دیوالیہ ہوسکتے ہیں اور انجام کار معاشی نظام ٹھپ ہوسکتا ہے۔

لیکن مخالفت کرنے والوں کی دلیل یہ ہے کہ یہ بوجھ ٹیکس دہندگان کے کندھوں پر ڈالا جارہا ہے جبکہ براہ راست ان کا اس بحران سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق اس پیکج کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر امریکی مرد، عورت اور بچہ وال سٹریٹ کے بینک بچانے کے لیے دو ہزار تین سو تینتیس ڈالر کا بوجھ برداشت کرے گا۔

اس کے علاوہ ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت جو قرض ’خرید‘ رہی ہے ان کی صحیح مالیت کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ پیکج سے مالی خسارہ بڑھ جائے گا جس سے افراط زر میں اضافہ ہوگا۔ اور ایک بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ اس پیکج میں ان عام امریکیوں کی بھی مدد کی جائے جو قسطیں ادا نہ کرپانے کی وجہ سے اپنے گھروں سے محروم ہوسکتے ہیں۔

مستقبل میں کیا ہوگا؟

تو دنیا کے بڑے سرمایہ کار بینکوں سے وابستہ ماہرین کے خیال میں اب آگے کیا ہوگا؟

جے پی مارگن کے اعلی اہلکار ڈیوڈ شیارپ کے مطابق یہ بات تقریباً طے ہے کہ عالمی معیشت میں مندی آئے گی۔ انٹیلی جنس کیپیٹل کے اویناش پرساد کے مطابق قرضے حاصل کرنا بہت مشکل ہوجائے گا کیونکہ بینک زیادہ محتاط ہوجائیں گے۔ اور اس کا براہ راست اثر معیشت پر پڑے گا کیونکہ معیشت قرضوں پر ہی چلتی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر لنڈا یو کے مطابق موجودہ مالی بحران سے نمٹنے کے لیے مغربی ممالک کو ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ملکر کام کرنا ہوگا جن کے پاس لیکویڈٹی کی کمی نہیں تاکہ عالمی میعشت میں توازن پیدا کیا جاسکے۔

عالمی مالیاتی بحران
معیشت کو ایسے جھٹکے عرصے سے نہیں لگے
جنگیں اور معاشیات
تین کھرب کی امریکی جنگیں اور مالی بحران
دائرہ پھیل رہا ہے
عالمی بحران، دنیا بھر کی شیئر مارکٹس میں مندی
اسی بارے میں
شیئر بازاروں میں پھرمندی
23 September, 2008 | آس پاس
پیکج منظور ہو جائے گا: بش
27 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد