BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیئر بازاروں میں پھرمندی
فائل فوٹو
امریکی بحران کا اثر ایشائی بازار بھی پڑا ہے
امریکہ میں مجوزہ امدادی فنڈ کی غیر یقینی صورت حال کے سبب یورپی اور ایشائی بازار حصص میں پھرمندی کا ماحول ہے۔ حالیہ گراوٹ امریکی بازار میں مندی کے سبب ہوئي ہے۔

امریکہ میں حکام معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سات سو اب ڈالر کے ایک منصوبے کے متعلق سیاسی رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اور شیئر بازار میں یہ گراوٹ اسی بے یقینی کی صورت حال میں آئی ہے۔

ہندوستان میں بامبے سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس ابتدائی دور میں تقریباً دو فیصد گرا ہے جبکہ ہانگ کانگ کا انڈیکس % 2.7 نیچے آیا ہے۔ سڈنی کے شیئر بازار میں بھی دو فیصد کی گرواٹ درج کی گئی ہے۔

ریپبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹس میں اس بات پر شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں کہ معاشی بحران کے لیے جس امدادی پیکج کی باتیں ہو رہی ہیں اسے کتنی تیزی سےعمل میں لایا جاسکتا ہے۔

اس دوران وہائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ مزید معاشی بحران سے بچنے کے لیے کانگریس کو چاہیے کہ وہ مجوزہ امدادی پیکج کو ضرور منظوری دے۔

فی الوقت جس بڑے پیمانے پر معاشی بحران کا سامناہے اور اس کے جو اثرات عالمی بازار پر پڑیں گے اس کے حوالے سے کئی سیاسی رہنما سکتے میں ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے بہت سے رہنماؤں کو اس بات پر فکر ہے کہ اس سے نجات کے لیے کوئی درمیانی راستہ اپنانے کی ضرورت ہے جبکہ کئی ایک اس درمیانی راستے پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کر رہے ہیں کہ یہ تجویز ٹیکس دینے والوں کے پیسوں کا زیاں ہے۔

سینیٹ کے ایک رکن ہیری ریڈ نے کہا’ بش انتظامیہ نے کانگریس سے کہا کہ وہ امدادی پیکج کو بغیر کسی سنجیدہ بحث کے منظوری دیدے تاکہ حالات بہتر کیے جا سکیں۔ لیکن ایسا ہوگا نہیں۔‘

سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی میں ریپیبلیکن پارٹی کے ایک رکن رچرڈ شیلبی نے بھی بش انتظامیہ کے اس منصوبے پر نکتہ چینی کی ہے۔’ یہ ایک بیوقوفی ہوگی کہ ٹیکس دینے والوں کی اتنی خطیر رقم ایک ایسے منصوبے کے لیے آزمائی جائے جسے اچھی طرح سے تیار بھی نہیں کیا گیا ہے۔‘

ادھر صدر جارج بش کو اس بارے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مناسب وقت پر موثر کارروائی نہیں کی گئی تو اس کے نتائج مزید برے ہوسکتے ہیں۔

ادھر چین کے شنگھائی کمپوژٹ انڈیکس میں بھی ابتدائی طور پر تقریبا ایک فیصد گرواٹ درج کی گئی ہے جبکہ جاپان کا شیئر بازار قومی چھٹی کے سبب بند ہے۔

پیر کو امریکہ میں ڈاؤ جونز انڈیکس 372.75 پوانٹس یعنی %3.3
نیچے گرگیا تھا۔ اس گراوٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جمعہ کے روز بازار میں جو تیزی آئی تھی وہ ایک ہی دن میں ختم ہوگئی۔

سب سے زیاد بینکوں کے شیئرز میں گرواٹ دیکھی گئی۔ بیشتر سرمایہ کاروں نے تیل اور سونے میں پیسہ لگایا اور اس میں بھی پیر کو تیل میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا۔

حکام اس مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک امدادی فنڈ پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت سات سو ارب ڈالر مختص کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ امریکی وزیرِ خزانہ ہنری پالسن نے پیش کیا ہے جس پر کانگریس غور رہی ہے۔ اس کے تحت خسارہ میں چل رہے بیشتر اداروں کے قرضوں کو خرید لیا جائےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد