BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 February, 2007, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حصص دوسرے روز بھی مندی کا شکار
حصص بازار
سڈنی کا اے ایس ایکس انڈیکس بھی مندے کے رحجان سے محفوظ نہ رہ سکا
شنگھائی سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز حصص کی قیمتوں میں اچانک کمی کے بعد سے بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں بدھ کومسلسل دوسرے روز بھی گرتی رہی ہیں۔

منگل کوگزشتہ دس سالوں میں چین کے حصص بازاروں میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بدھ کی صبح برطانیہ کے فٹسی 100 انڈیکس میں ایک فیصد کمی ہوئی جس کے بعد گزشتہ دو دنوں میں ہونے والی کل کمی تین اعشاریہ دو فیصد تک پہنچ گئی۔ یوں لندن سٹاک ایکسچینچ میں حصص کی کل قیمت میں باون ارب کی کمی ہوئی ہے۔

فرانس میں بھی حصص بازار میں دو فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ اس سے پہلے ایشیا اور آسٹریلیا کے حصص بازاروں میں بھی اسی طرح مندے کا رحجان دیکھا گیا۔

جاپان میں حصص کی قیمتیں تیزی سے گریں اور شیئر انڈیکس پانچ سو پندرہ اعشاریہ آٹھ پوائنٹ کی کمی کے ساتھ 17,604.1 پوائنٹ پر بند ہوا جبکہ ہانگ کانگ کے ہینگ سنگ انڈیکس میں چار سو اکتس اعشاریہ تین پوائنٹ کی کمی دیکھنے میں آئی۔

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ وہ صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وزیرِ خزانہ ہینری پالسن نے امریکی صدر جارج بش کو مارکیٹ سے متعلق آگاہ کیا ہے۔ منگل کے روز نیو یارک میں ڈاؤ جونز انڈیکس تین فیصد سے زیادہ گر گئی تھی۔ یہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد ڈاؤ جونز انڈیکس میں سب سے زیادہ کمی ہے۔

سرمایہ کار چین اور امریکہ میں معاشی ترقی اور آمدن میں اضافے کے رحجان کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

منگل سے عالمی بازاروں میں حصص کی فروختگی میں جو شدید تیزی آئی ہے اس کا سبب یہ افواہ ہے کہ شاید چین کی حکومت حصص کی غیر قانونی خرید وفروخت کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کرے اور یہ کہ وہ حصص بازار سے کمائی پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانے جا رہی ہے۔

جو سوال سرمایہ کاروں کی اکثریت کو پریشان کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ حصص کی قیمتوں میں حالیہ کمی کا رجاحان کتنی دیر جاری رہے گا اور کہیں ایسا تو نہیں کہ چین کی معیشت، جو ا ب تک قیمتیوں میں میں مسلسل اضافے کا سبب رہی ہے، بیٹھ رہی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے چین نئی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے سب سے بڑی منڈی ہے اور گذشتہ ایک سال کے دوران چین کے مرکزی حصص میں دوگنا تک اضافہ ہوا۔

اس دوران ایشیاء کے مرکزی انڈیکسز، جیسے جاپان کا نکی 225، میں بھی مسسل اضافہ ہوتا رہا اور وہ گزشستہ سات برسوں میں اپنے عروج پر پہنچ گئے۔

کچھ تجزیہ کاروں کو کہنا ہے کہ منگل کے روز سے شروع ہونے والی کمی دنوں کی بجائے کئی ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔

منگل کو پہلے ڈاؤ جونز 500 پوائنٹ گری لیکن بعد میں یہ 416 پوائنٹس کی کمی پر بند ہوئی۔ اس رجحان کی وجہ شنگھائی مارکیٹ میں نو فیصد کے قریب کمی اور ایسی خبریں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی معیشت تنزلی کا شکار ہے۔ سرمایہ کاروں کو یہ بھی خوف ہے کہ چین کی معیشت بھی اس سمت جا رہی ہے۔

چین سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے کیونکہ اقتصادی طور پر یہ ملک مضبوط ہے اور حکومت نے کئی بڑی اور منافع بخش قومی کمپنیوں کے حصص بیچ دیئے ہیں۔

تاہم حکومت یہ بھی کوشش کر رہی ہے کہ وہ کوئی ایسے طریقے ڈھونڈے جس سے اس ترقی کی رفتار میں کمی لائی جا سکے تاکہ معیشت ’اوور ہیٹ‘ یا زیادہ گرم نہ ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے سرمایہ دار اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں حکومت ایسے قوانین نہ لے آئے جن سے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ داری کو محدود کر دیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد