BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 September, 2008, 03:47 GMT 08:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی
گزشتہ ایک سال میں تیل کی قیمت میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے
عالمی منڈی میں تیل کی قمیتوں میں ایک بار پھر زبردست تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور صرف پیر کے روز خام تیل کی قیمت میں پچیس ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا ہے۔

پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ تیل کی قیمتوں میں ایک دن میں ہونے والے اضافے کا نیا ریکارڈ ہے۔

حالیہ مہینوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ رواں سال جولائی میں تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ قیمت تک پہنچ گئی تھی لیکن بعد میں گھٹ کر نوے ڈالر پر پہنچ گئی۔

امریکی حکومت کی طرف خطرات میں گھرے فنانشل اداروں کے لیے سات سو ملین ڈالر کے امدادی منصوبے پر ابہام تیل میں قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ بنی۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس پیکج سے امریکی ادارے مضبوط ہوں گئے جبکہ بعض سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہوئے تیل کی مارکیٹ میں سرمایہ لگا دیا۔

تیل کی قیمتوں کی اضافے کی ایک وجہ جزیرہ نما میکسیکو میں آنے والے سمندری طوفان آئیک کی وجہ سے میکسیکو میں تیل کی تنصیات کو نقصان پہنچا جسے تیل کی پیدوار متاثر ہوئی ہے۔

گیارہ جولائی 2008 کو ایک بیرل تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر تھی جو عالمی منڈی میں تیل کی سب سے زیادہ قیمت تھی۔

سن دو ہزار تین کے بعد تیل کی قیمت میں چھ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت تیس ڈالر فی بیرل تھی۔

مئی دو ہزار سات میں ایک بیرل تیل کی قیمت پینسٹھ ڈالر تھی جو جولائی دو ہزار آٹھ میں بڑھ کر ایک سو سینتالیس ڈالر ہو گئی تھی۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا موقف ہے کہ سٹے بازوں اور کمزورامریکی ڈالر کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

البتہ عالمی ادارے ادارے گولڈمین سیکسس کی ایک رپورٹ کے مطابق تیل کی مانگ میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے اگلے دو سال کے اندر تیل کی قیمت دو سو ڈالر ہو سکتی ہے۔

گولڈمین سیکسس نے تین سال قبل جب تیل کی قیمت پچپن ڈالر تھی پیشنگوئی کی تھی کہ یہ بڑھ کر ایک سو ڈالر سے زیادہ ہو جائے گی اور اس سال جنوری میں ان کی بات درست ثابت ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد