BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 April, 2008, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل پھر مہنگا کرنا پڑے گا:وزیر خزانہ

تیل کی فروخت(فائل فوٹو)
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک سو اٹھارہ ڈالر فی بیرل ہے اور مبصرین کے مطابق حکومت ابھی تک چوہتر ڈالر فی بیرل کے حساب سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے
پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک میں تیس جون سے قبل تیل کی قیمتیں پھر بڑھانا پڑیں گی کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت عوام کو سبسِڈی دے رہی ہے جس سے خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات سنیچر کے روز خزانہ کے بارے میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ کمیٹی کی صدارت سینیٹراحمد علی نےکی۔ اجلاس میں وزیر خزانہ کے علاوہ سٹیٹ بینک کی گورنر اور ڈاکٹر اشفاق حسن بھی موجود تھے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ابھی بھی ڈیزل پر سترہ روپے سے لے کر اکیس روپے تک سبسڈی دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جس حد تک ممکن ہوا حکومت عوام کو تیل پر سبسڈی دیتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے آخر تک تیل کی مد میں ایک سو ترپن ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ مالی سال کے اختتام پر معیشت کے معیار کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سابق حکومت اور نگراں حکومت نے رواں مالی سال کے دوران بجٹ میں مختص کی گئی رقم سے پانچ سو ارب سے زائد کے اخراجات کر چکی ہیں۔

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی ائرلائن اور واپڈا خسارے میں جا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت سٹیٹ بینک سے اپنی مقررہ حد سے کئی گناہ زیادہ قرضہ لے چکی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دیوالیہ پن کے بارے میں ڈرافٹ تیار کیا جا رہا ہے جس پر قائمہ کمیٹی میں شامل ارکان نے کہا کہ اس ڈرافٹ کے حوالے سے اُن کی سفارشات بھی شامل کی جائیں۔

اجلاس کے دوران کوریج کے لیے آنے والے میڈیا کے نمائندوں کو باہر نکالنے کی بات کی گئی تاہم کمیٹی میں شامل سینیٹر پروفیسر خورشید احمد اور سینیٹر نثار میمن نے اس کی مخالفت کی۔

واضح رہے کہ نومبر سنہ دوہزار سات کے وسط میں بننے والی نگراں حکومت کے دور سے لے کر اب تک تیل کی قیمتوں میں چار مرتبہ اضافہ کیا جا چکا ہے جس میں سے دو مرتبہ نگران حکومت کے دور میں جبکہ دو مرتبہ اٹھارہ فروری کے بعد بننے والی حکومت کے دور میں۔

چند روز قبل تیل کی قیمیتوں میں اضافہ کیا گیا تھا تاہم وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک سو اٹھارہ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے اور مبصرین کے مطابق حکومت ابھی تک چوہتر ڈالر فی بیرل کے حساب سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ چالیس ڈالر سے زائد کا بوجھ حکومت خود برداشت کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
01 March, 2008 | پاکستان
کاغذ کی قیمتوں میں اضافہ
21 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد