BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 April, 2008, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آٹے کی قیمت میں اضافہ یا کمی؟

آٹے کی قیمت میں اضافہ یا کمی؟
اخبارات میں قمیت میں اضافے کی خبر کی بجائے پانچ روپے کمی کی خبر نمایاں نظر آ رہی ہے
حکومت پنجاب نے بیس کلو آٹے کے تھیلے کی سرکاری قیمت میں پچھتر روپے کا اضافہ کر دیا ہے لیکن اضافہ کی سادہ خبر جاری کرنے کی بجائے سرکاری طور پر پانچ روپے کی کمی کا ہینڈ آؤٹ جاری کیا ہے۔

لاہور کے ایک آٹا ڈیلر میاں انور نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف دو روز پہلے آٹے کے بیس کلو تھیلے کی سرکاری قیمت تین سو روپے تھی جو بڑھا کر پونے چار سو روپے کر دی گئی ہے۔

صوبائی محکمہ تعلقات عامہ نے جو ہینڈ آؤٹ جاری کیا ہے اس کی وجہ سے پاکستان کے بیشتر قومی اخبارات میں آٹے کی قمیت میں اضافے کی حقیقی خبر کی بجائے پانچ روپے کمی کی خبر زیادہ نمایاں نظر آ رہی ہے۔

عملی طور پر مارکیٹ میں آٹے کی فی من قیمت میں ڈیڑھ سو روپے کا اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت اسے کمی کیوں قرار دے رہی ہے ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پنجاب) کے صدر حبیب الرحمان لغاری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کسانوں سے خریداری کے لیے گندم کی قیمت میں ایک سو ساٹھ روپے فی من اضافہ کیا ہے اور پندرہ اپریل سے محکمہ خوراک نے نئی قیمت پر فلور ملوں کو گندم فراہم کرنا شروع کی تو فلور ملوں نے ملیں بند کر دیں اور گندم کی قیمت کے تناسب سے آٹے کی نئی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جمعرات کو فلور ملز ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیر اعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ سے ملاقات ہوئی تو وفد کے اراکین نے وزیر اعلی کو کہا کہ وہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر بیس کلو کے آٹے کے تھیلے کی قیمت میں اسی روپے کے اضافے کی بجائے پچھتر روپے کا اضافہ کریں گے اور نئے وزیر اعلی کی خاطر پانچ روپے کی کمی برداشت کر لیں گے۔

اس طرح آٹے کی سرکاری قیمت میں جو چار روپے فی کلو کا اضافے ہونا تھا عام صارف کو اس میں چار آنے فی کلو کی رعایت ملی ہے۔

فلور ملز مالک حبیب الرحمان لغاری نے کہا کہ چار آنے کی اس رعایت کو بھی عارضی قرار دیا اور کہا کہ وہ یہ رعایت اس لیے دے پا رہے ہیں کہ فی الحال حکومت نے انہیں کسانوں سے براہ راست گندم خریدنے کی اجازت دے دی ہے اور وہ ادھار پر گندم اٹھا رہے ہیں۔

پاکستان میں ان دنوں آٹے کی قلت جاری ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ زائد قیمت پر بھی آٹا دستیاب نہیں ہے۔

اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے اپنی انتخابی مہم میں سابق حکمرانوں کو خاص طور پر آٹے کی قیمت میں اضافے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

پنجاب اسمبلی کے نامزد قائد حزب اختلاف چودھری ظہیر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹے کی قمیت میں چار آنے فی کلو کمی کا اعلان نمک خریدنے کے لیے کیاگیا ہے جو وہ اپنے زخموں پر چھڑک سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں بیس کلو آٹا پانچ سو روپے میں بھی نہیں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے عوام سے آٹے کی قمیت آدھی کرنے کا وعدہ کیا تھا اور وہ ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قمیت آدھی نہ سہی اتنی ہی کر دیں جتنی ہمارے دور میں تھی۔

آٹے کے بحران ذمہ دار کون ہے؟
آٹے کے بحران پر سوال بے شمار، جواب ندارد
پاکستان میں آٹے کا بحرانآٹے کا بحران
ملک بھر میں آٹا غائب، عوام پریشان:تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد