سعودیہ پیداوار بڑھانے کو تیار نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکام کے مطابق سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافے کے لیے امریکی صدر بش کی جانب سے کی جانے والی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اس بات کا اعلان ریاض میں سعودی شاہ اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات کے بعد کیا گیا۔ سعودی حکام کا موقف ہے کہ وہ پہلے ہی ماہ رواں کے آغاز میں تیل کی پیداوار میں تین لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کر چکے ہیں اور اس وقت ان کی پیداوار طلب کے مطابق ہی ہے۔ سعودی عرب کے وزیرِ تیل علی النعیمی کے مطابق ’ آج طلب اور رسد میں توازن برقرار ہے۔ ہم اس سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں‘۔ دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتیں اس وقت ایک سو ستائیس ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر موجود ہیں۔امریکہ چاہتا ہے کہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے تاکہ قیمتوں کو نیچے لایا جا سکے جبکہ سعودی عرب کا موقف ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ کم پیداوار نہیں بلکہ مارکیٹ کے غلط اندازے ہیں۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلے کے مطابق سعودی حکومت نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ مارکیٹ کی طلب پوری کرنے کے لیے درکار تیل مہیا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’سعودی ہمیں بتانا چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے وہ جو کچھ کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں۔ تاہم یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے‘۔ سٹیفن ہیڈلے کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کا یہ بھی ماننا ہے کہ پیداوار میں اضافے سے قیمتیں کم نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اگرچہ سعودی موقف کو تسلیم کیا ہے تاہم وہ اس معاملے پر اپنے ماہرین سے بھی مشورہ کرے گا۔ | اسی بارے میں تیل ’200 ڈالر فی بیرل ہوسکتا ہے‘07 May, 2008 | آس پاس تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ28 March, 2008 | آس پاس خام تیل نئی ریکارڈ قیمت پر11 March, 2008 | آس پاس تیل کی نئی قیمت 111 ڈالر فی بیرل13 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||