معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بازارمیں تیل کی قیمتوں میں کافی کمی آئی ہے اور اب تیل نوے ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آگيا ہے۔گزشتہ آٹھ ماہ میں تیل کی قیمتوں میں یہ سب سے زیادہ گراوٹ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی اس بات کا مظہر ہے کہ امریکہ اور یورپ کے معاشی بحران سے عالمی بازار سست روی کا شکار ہوں گی اور اس سے تیل کی مانگ میں کمی آئےگی۔ خلیجی ممالک کے شیئر بازار میں زبردست مندی آئی ہے اور بینکوں اور بلڈنگ کنٹریکٹرز کے شیئرز میں سب سے زیادہ مندی دیکھی گئی ہے۔ سعودی عرب کے بازار حصص میں، جو خلیجی ممالک میں سب سے بڑا شیئر بازار ہے، نو فیصد کی گرواٹ درج کی گئی ہے جبکہ خلیج کے دوسرے بازاروں میں چار سے چھ فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ دبئی کے شیئر بازار میں %4.5 ،ابو ظہبی اور قطر کے شیئر بازار %4 کی گراوٹ آئی ہے جبکہ کویت %3.5 اور عمان کے بازار میں چھ فیصد کی گرواٹ آئی ہے۔ عید کی چھٹی کے بعد پیر کو جب شیئر بازار کھلا تو پہلے ایک دن میں جس قدر گرواٹ دیکھی گئی اتنی گزشتہ چند برسوں میں دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ | اسی بارے میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی23 September, 2008 | آس پاس امریکی ساحل پر تیل نکالنےکا قانون17 September, 2008 | آس پاس تیل کی قیمت میں کمی کا رجحان26 July, 2008 | آس پاس تیل کی قیمت میں کمی کا رجحان24 July, 2008 | آس پاس عراق کے عالمی کمپنیوں سے معاہدے30 June, 2008 | آس پاس تیل کی قیمت 142 ڈالر فی بیرل27 June, 2008 | آس پاس تیل کی قیمتوں پر جدہ میں اجلاس22 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||