تیل کی قیمتوں پر جدہ میں اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بات چیت کرنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے اور خریدنے والے ممالک کے وزراء کو جدہ میں ایک اجلاس کے لیے مدعو کیا ہے۔ عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سعودی عرب کو یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔ ایک بیرل تیل کی قمیت اس ہفتے 140 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی جس کے سبب تیل پیدا کرنے والے اور خریدنے والے ممالک مشکلات سے دو چار ہیں اور تیل کی قمیتوں میں اضافے کے سبب دنیا بھر میں مہنگائی بھی بڑھی جس کے سبب حکومتیں پریشان ہیں کہ عام آدمی کو مہنگائی کے بوجھ سے کیسے بچایا جا ئے۔ جدہ میں ہونے والے اجلاس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا کیا حل نکالا جائے۔ اس اجلاس میں 30 سے زائد ممالک کے توانائی کے وزراء حصہ لے رہے ہیں ۔ ان میں بھارت کے وزیر خزانہ پی چدامبرام اور پیٹرولیم کے وزیر مرلی دیورا بھی شامل ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے ہیں اور حال ہی میں امریکہ نے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے اپیل کی ہے وہ تیل کی پیداوار بڑھائیں اور جو ممالک تیل پر سبسڈی ختم نہیں کررہے ہیں وہ سبسڈی ختم کریں۔ تیل کی قمیتوں میں دس برس میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ دس برس پہلے تیل کی مانگ اس لیے کم ہوئی تھی کیونکہ ایشیاء میں اقتصادی بحران پیدا ہوگیا تھا۔ اور تیل پیدا کرنےوالے ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھا دی تھی۔اور ایک بیرل تیل کی قیمت 10 امریکی ڈالر ہوگئی تھی۔ وہ وقت تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے پریشانی کا دور تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آج بھی تیل پیدا کرنے والے ممالک کو یہ ڈر ستاتا ہے کہ کہیں وہ تیل کی پیداوار بڑھائیں اور تیل کی قمیتیں کم نہ ہوجائیں۔ لیکن اب وقت بدلا ہے اور تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کی جانب سے تیل کی مانگ میں اضافے نے تیل کی قیمتوں کو بڑھایا ہے۔ لیکن کیا اس سے سعودی عرب کو کوئی فرق پڑتا ہے؟ کیا وہ واقعی تیل کی بڑھتی ہوئی قمیتوں سے خوش ہے اور اگر وہ نہ بھی ہو تو کیا وہ بڑھتی قمیتوں کو کم کرنے کے لیے کچھ کرسکتا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک جیسے ایران اور وینزویلا سے زیادہ سعودی عرب اس بات کی فکر کرتا ہے کیونکہ اس کے تیل درآمد کرنے والے ممالک سے اچھے رشتے ہیں خاص طور سے امریکہ سے اور دوسری وجہ یہ بھی کہ تیل کی بڑھتی ہو ئی قیمتیں تیل کی خریداری پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ 1970 کے عشرے میں تیل کساد بازاری کی اہم وجہ رہی تھی۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ اس وقت مشرقی وسطی میں تنازعات کے سبب تیل کی سپلائی میں روکاٹ آئی تھی لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ تیل کی بڑھتی قمیتیں امریکہ کی معاشی ترقی کو مزید سست کرسکتی ہے۔ تیل کی قمیتوں میں اضافے کا مطلب ہے کہ عام آدمی کے پاس کسی اور اشیاء کی خریداری کے لیے پیسے کم ہوں گے جس سے کمپنیوں کے فائدے پر فرق پڑتا ہے اور تیل کی قمیتوں کے اضافے کے بعد کئی ممالک کے بینکوں نے اپنے قرضے مہنگے کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ تیل کی قمیتوں میں اضافے کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ عوام یا تو ایسا کوئی متبادل ڈھونڈتی ہے جس وہ تیل کا کم سے کم استمعال کرے یا پھر وہ تیل پر خرچ کم کرے۔ ہندوستان اور چین جیسے ممالک نے تیل کی قیمتوں کا بوجھ عام آدم پر بھی ڈال دیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کااعلان کیاگیا ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کیا کرسکتا ہے۔ ایک جواب یہ ہے کہ وہ تیل کی پیدوار بڑھا دے اور گزشتہ ہفتوں سے سعودی عرب اس بارے میں سوچ بھی رہا ہے۔ اور گزشتہ مہینے سعودی عرب نے تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے اپنی پیدوار تین لاکھ بیرل روزانہ کے حساب سے بڑھا دی تھی ۔ اور امید کی جارہی ہے کہ جدہ میں ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب اس بات کا اعلان کرسکتاہے کہ وہ تیل کی اپنی پیداوار مزید بڑھائے گا۔ |
اسی بارے میں تیل کی قیمتیں، جی ایٹ کا اجلاس08 June, 2008 | آس پاس ایران میں تیل کے لیے ہنگامے27 June, 2007 | آس پاس ایران میں تیل کے لیے ہنگامے27 June, 2007 | آس پاس تیل قیمتیں: ریکارڈ اضافہ، معمولی کمی23 May, 2008 | آس پاس آئل ڈپو: آگ ابھی تک لگی ہوئی ہے11 December, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||