BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئل ڈپو: آگ ابھی تک لگی ہوئی ہے
دھواں
ڈپو سے اٹھتے دھویں کے بادلوں نے علاقے کو گھیر رکھا ہے
برطانوی کاؤنٹی ہرٹفورڈ شائر کے علاقے ہیمل ہیمسٹڈ میں واقع تیل کے ایک ذخیرے میں دھماکوں کے بعد ابھی تک آگ لگی ہوئی ہے۔


ہیمل ہیمسٹڈ کے قریب واقع بنسفیلڈ آئل ڈپو میں اتوار کو علی الصبح تین دھماکوں کے بعد آگ لگ گئی تھی۔ آگ سے پیدا ہونے والے انتہائی سیاہ دھویں کا رخ انگلینڈ کے جنوب مشرقی علاقے کی طرف ہے۔

برطانیہ کے نائب وزیراعظم جان پریسکوٹ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ اس حادثے میں 43 افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے فوری امدادی کوششوں کی تعریف اور حکومتی مدد کی پیشکش کی لیکن انہیں بتایا گیا کہ ہنگامی سروسز اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔

ہرٹفورڈ شائر کے چیف فائر آفیسر نے اس حادثے کو امن کے دور میں یورپ کا غالباً سب بڑا حادثہ قرار دیا۔

اطلاعات کے مطابق تین دھماکے ہوئے جن میں سے بنسفیلڈ فیول ڈپو میں پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بج کر تین منٹ پر ہوا۔ اس دھماکے کی آواز نزدیکی کاؤنٹیوں سرے اور نافوک کے علاوہ آکسفرڈشائر تک سنی گئی۔ بقیہ دو دھماکے چھ بج کر چھبیس منٹ اور ستائیس منٹ پر ہوئے۔

پولیس کے مطابق آگ حادثاتی ہے اور اسے بجھانے میں ایک دن اور لگ سکتا ہے۔ جس ڈپو میں آگ لگی ہے اس میں پٹرول کے بیس ٹینک موجود ہیں اور ہر ٹینک میں تیس لاکھ گیلن تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔

ڈپو کے آس پاس رہنے والے دو ہزار افراد کو علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔ پولیس نے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ دھویں سے بچنے کے لیے گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں۔

ڈپو سے دھویں کے تیزی سے بلند ہوتے کالے بادل جنوب مشرق سے جنوب مغرب کی طرف پھیل رہے ہیں۔

اس حادثے کے بعد تقریبا اکتالیس معمولی زخمیوں طبی امداد کے بعد ہسپتال سے خارج کر دیا گیا۔

آگ بجھانے والے عملے کے سربراہان تیل کی صنعت کے ماہرین سے آگ پر قابو پانے کے لیے لاکھوں لیٹر فوم استعمال کرنے کے حوالے سےمشورہ کر رہے ہیں۔

گھروں کو ان دھماکوں سے نقصان پہنچا

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے آس پاس کی آبادی کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا اور عینی شاہدین کے مطابق گھروں کے مرکزی دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔

پولیس نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ہیمل ہیمسٹیڈ اور اس کے آس پاس واقع سکول پیر کو بند رہیں گے۔

ہیتھرو ائر پورٹ پر کچھ پروازوں کو دھویں کے باعث ہوائی اڈے پر اترنےکے اوقات کار میں تبدیلی کرنی پڑی لیکن لوٹن کے ہوائی اڈے پر پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں۔

بنسفیلڈ ڈپو کا نظام ’ٹوٹل‘ اور ’ٹیکساکو‘ کمپنیوں کے پاس ہے اور یہاں پر پٹرول اور کیروسین آئل ذخیرہ کیا جاتا ہے جسے علاقے میں واقع ہیتھرو اور لوٹن کے ہوائی اڈوں کو سپلائی دی جاتی ہے۔

یہ ملک کا پانچواں سب سے بڑا تیل ڈسٹری بیوشن ڈپو ہے۔ اس ڈپو کو بی پی، شیل اور برٹش پائپ لائن کمپنیاں بھی استعمال کرتی ہیں۔

پولیس نے لوگوں کوہدایت کی ہے کہ دھماکوں کے بعد تیل کی فراہمی میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہے لہذا لوگ تیل خریدنے میں افراتفری کا مظاہرہ نہ کریں۔

ٹوٹل کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ ہم حالات کو قابو کرنے اور امدادی اداروں کی مدد کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں‘۔

متاثرہ علاقہ

وزارت تجارت اور صنعت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس حادثے کا تیل کی سپلائی پر کیااثر پڑے گا۔

بی بی سی کے نمائندے کولن کیمبل کا کہنا ہے کہ’ تیل کے ڈپو سے بہت اونچے شعلے بلند ہو رہے ہیں اور ہر طرف تباہی کا منظر ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد