برطانیہ: آئل ڈپو میں تین دھماکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی کاؤنٹی ہرٹفورڈ شائر کے علاقے ہیمل ہیمپسٹڈ میں واقع تیل کے ایک ذخیرے میں تین دھماکوں کے بعد آگ لگ گئی ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں فٹ اونچے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں 36 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چار کو شدید زخم آئے ہیں۔ امدادی ادارے جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق آگ ایک حادثہ تھی اور اسے بجھانے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ جس ڈپو میں آگ لگی ہے اس میں بیس پٹرول ٹینک موجود ہیں اور ہر ٹینک میں تیس لاکھ گیلن تیل ڈخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ بی بی سی کے نمائندے کولن کیمبل کا کہنا ہے کہ’ تیل کے ڈپو سے بہت اونچے شعلے بلند ہو رہے ہیں اور ہر طرف تباہی کا منظر ہے‘۔ ڈپو کے قریبی علاقے سینٹ البنز کی رہائشی بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ’ آسمان پر دھوئیں کا بادل چھایا ہوا ہے، ہر جانب گیس کی بو ہے اور علاقے میں بہت سے فائر انجن اور پولیس کا گاڑیاں موجود ہیں‘۔ اطلاعات کے مطابق بنسفیلڈ آئل ڈپو میں پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بج کر تین منٹ پر ہوا۔ اس دھماکے کی آواز نزدیکی کاؤنٹیوں سرے اور نافوک کے علاوہ آکسفرڈشائر تک سنی گئی۔ بقیہ دو دھماکے چھ بج کر چھبیس منٹ اور ستائیس منٹ پر ہوئے۔ دھماکے کے نتیجے میں آس پاس کی آبادی کے گھروں کو بھی نقصان پہنچا اور عینی شاہدین کے مطابق گھروں کے مرکزی دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ دھماکے کے بعد آئل ڈپو کی نزدیکی آبادی کو خالی کروا لیا گیا ہے۔ بنسفیلڈ ڈپو کا نظام ’ٹوٹل‘ اور ’ٹیکساکو‘ کمپنیوں کے پاس ہے اور یہاں پر پٹرول اور کیروسین آئل ذخیرہ ہوتا ہے جسے دس میل دور واقع لوٹن ائیر پورٹ کو مہیا کیا جاتا ہے۔ ٹوٹل کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ ہم حالات کو قابو کرنے اور امدادی اداروں کی مدد کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں‘۔ | اسی بارے میں دھماکے میں باسٹھ کان کن ہلاک08 December, 2005 | آس پاس بارودی سرنگ پھٹنے سے7 ہلاک06 December, 2005 | آس پاس کوئلے کی کان میں دھماکہ، 68 ہلاک28 November, 2005 | آس پاس محمودیہ: دھماکے میں 30 افراد ہلاک24 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||