BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 June, 2007, 23:01 GMT 04:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران میں تیل کے لیے ہنگامے
تہران میں ہجوم نے ایک پیٹرول پمپ کو آگ لگا دی
ایران چالیس فیصد تیل درامد کرتا ہے
ایران میں حکومت کی جانب سے ذاتی گاڑیوں کے لیے تیل کی راشن بندی کے اعلان کے بعد تہران میں لوگوں نے کم از کم بارہ پٹرول سٹیشنوں کو آگ لگا دی۔

کئی جگہوں پر پٹرول کے حصول کے لیے قطاروں میں لگے لوگوں نے تھوڑ پھوڑ بھی کی، جس پر حکومت کو ہر پٹرول سٹیشن پر پولیس تعینات کرنا پڑی ہے۔

ایران کے شہریوں کو صرف دو گھنٹے کا نوٹس دیا گیا کہ پرائیویٹ ڈرائیور ایک ماہ میں صرف سو لیٹر تیل خرید سکیں گےاورلائسنس ٹیکسی ڈرائیور ایک ماہ میں سبسڈی قیمت پر آٹھ سو لیٹر تیل خرید سکیں گے۔

اس اعلان پر لوگ مشتعل ہوگئے اور پٹرول سٹیشنوں سمیت کئی دوسری املاک کو نقصان پہنچایا۔

ایران کے پاس پٹرول کے بڑے ذخائر ہونے کے باوجود وہ اپنا چالیس فیصد تیل درآمد کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس تیل صاف کرنے کی سہولیات کم ہیں۔

ملک میں افراطِ زر کی شرح بیس سے تیس فیصد ہے اور تیل پر بھاری سبسڈی کے سبب بجٹ خسارے میں چل رہا ہے۔

تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیری سن کا کہنا ہے کہ ایران کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے مستقبل میں اقوامِ متحدہ کی طرف سے اس پر اس پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں اور اس لیے وہ تیل کی مقامی کھپت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی حکومت اس اندیشے کا شکار ہے کہ مغرب اس کے پٹرول درآمد کرنے پر پابندی لگا کر اس کی معیشت کو مفلوج کر سکتا ہے۔

ایران میں تیل ریفائنری
ایران میں خام تیل صاف کرنے کی سہولیات بہت کم ہیں

پٹرول کی راشن بندی کا نظام مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کو شروع ہوا، جو چار ماہ تک جاری رہے گا۔ حکومت کا کہنا ہے اس نظام میں چھ ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے۔

لوگوں میں اس بات پر خاصی ناراضگی ہے کہ انہیں مہلت نہیں دی گئی۔ انہوں نے پارلیمان نے اس پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے پارلیمان کی تعطیلات منسوخ کر دی جائیں۔

فرانسس ہیری سن کا کہنا ہے کسی بھی منتخب حکومت کے لیے یہ ایک خطرناک قدم ہے، خاص طور پر تیل کی دولت سے مالا مال ملک کے لیے جہاں لوگوں کو لگتا ہے کہ سستا تیل ان کا پیدائشی حق ہے اور سرکاری ٹرانسپورٹ بہت محدود ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد