ایرانی وزیرِ خارجہ جرمنی پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متقی ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر بات چیت کے لیئے جرمنی کا دورہ کر رہے ہیں۔ اپنے اس دورے میں وہ اپنے جرمن ہم منصب فرینک والٹر سٹینمائر سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں اقوامِ متحدہ کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی کی جانب سے ایران کو پیش کیئے جانے والے مراعاتی پیکج پر بات چیت کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس پیکج میں ممکنہ طور پر ایران کو تجارتی رعایات کے علاوہ اقتصادی اور تکینیکی مراعات کی بھی پیشکش کی گئی ہے۔ جرمن وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق جرمنی پر امید ہے کہ ایران اس بین لاقوامی پیشکش کا جلد جواب دے گا۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں جرمن وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ مراعاتی پیکج ایک نئی ڈیل کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران سے مذاکرات صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب وہ یورینیم کی افزودگی معطل کر دے اور ایسا کرنے کی صورت میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین ایران کے خلاف قرارداد لانے کی کوششیں بھی روک دیں گے۔ یہی امید کی جا رہی ہے کہ ایرانی ہم منصب سے حالیہ ملاقات کے دوران بھی جرمن وزیرِ خارجہ انہی باتوں کا اعادہ کریں گے۔ یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نےگزشتہ ہفتے روم میں اطالوی ہم منصب سے بھی اس سلسلے میں ملاقات کی تھی۔ بہت سے سفارتکاروں کا خیال ہے کہ ایران سینٹ پیٹرز برگ میں جی ایٹ کے اجلاس کے موقع پر مراعاتی پیکج کا باقاعدہ جواب دے گا۔ تاحال ایران اس پیشکش کا جواب دینے سے انکار کرتا رہا ہے تاہم ایرنی وزیر خارجہ نے اس مراعاتی پیکج کو ’ایک مثبت قدم‘ قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں ایران کو صدر بش کا نیا انتباہ20 June, 2006 | آس پاس ایرانی رویہ مثبت ہے: صدر پوتین15 June, 2006 | آس پاس ایران: جوابی پیکج کا اعلان کریں گے10 June, 2006 | آس پاس ’یورینیم کی افزودگی جاری ہے‘08 June, 2006 | آس پاس سولانا تجاویز لے کر ایران جائیں گے03 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||