’بات چیت مثبت اور بے لاگ رہی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور ایران کے مابین قریباً تین عشرے بعد ہونے والی بات چیت کو امریکہ کی جانب سے ’مثبت‘ اور’ بے لاگ‘ قرار دیا گیا ہے۔ عراقی وزیرِاعظم کی میزبانی میں ہونے والی چار گھنٹے کی اس ملاقات میں صرف عراق میں سکیورٹی کی صورتحال پر بات کی گئی۔ اس بات چیت میں ایران اور امریکہ کی نمائندگی عراق میں دونوں ممالک کے سفراء ریان سی کروکر اور حسن قومی نے کی۔ امریکہ اور ایران کے سفیروں کی ملاقات سنہ 1979 میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد سرکاری سطح پر پہلی دو طرفہ ملاقات تھی۔ ملاقات کے بعد امریکی نمائندے ریان سی کروکر نے کہا کہ اس ملاقات میں عراق کے حوالے سے پالیسی پر عمومی اتفاقِ رائے پایا گیا تاہم اب’دیکھنا یہ ہے کہ ایران عملی طور پر کیا کرتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ عراق میں ملیشیا گروپوں کو مسلح کرنا بند کر دے اور امریکہ اب’اس حوالے سے نتائج چاہتا ہے‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے ایرانی ہم منصب نے ملاقات میں اس الزام کو رد کر دیا۔
امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران ایک’محفوظ، مستحکم اور جمہوری عراق کے حامی ہیں، ایک ایسا عراق جو اپنے ہمسایوں کے ساتھ پر امن تعلقات رکھے‘۔ تاہم ریاں سی کروکر نے یہ بھی کہا کہ ایران کی پالیسی اور زمینی حقائق میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ ملاقات ایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر امریکہ اور اس کے حامیوں کے جاسوسی نیٹ ورک کے پکڑے جانے کے دعوے کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق جاسوسی کے یہ نیٹ ورک ’ملک کے جنوبی، وسطی اور جنوب مغربی علاقے میں سبوتاژ اور دراندازی کی کوششوں کے لیے بنائے گئے تھے‘۔ اتوار کو بھی ایرانی حکام نے سوئس سفیر کو طلب کر کے جاسوسی کے نیٹ ورکس کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔ یاد رہے کہ ایران میں امریکی مفادات کی نمائندگی سوئس سفیر ہی کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاسوسی کے نظام کے حوالے سے ایرانی الزامات کی نہ تو تصدیق اور نہ ہی تردید کی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈینا پرینو کے مطابق’ ہم چاہتے ہیں کہ ایران عراق میں ایک مثبت کردار ادا کرے اور ان مسائل کے لیے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانا بند کر دے جن کی وجہ وہ خود ہے‘۔ بی بی سی کے پال رینلڈز کے مطابق امریکہ پیر کو ہونے والی ملاقات کے لیے لگائی جانے والی ان شرائط سے بھی دستبردار ہو گیا ہے جن میں ایران سے کہا گیا تھا کہ وہ بغداد حکومت کی حمایت کا اعلان کرے۔ ادھر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عراقی وزیرِ خارجہ ہشیار زباری نے اس بات چیت کو باقاعدہ مذاکرات کی جانب پہلا بڑا قدم قرار دیا ہے تاہم انہیں اس ملاقات سے کسی معجزانہ نتائج کی توقع نہیں۔ تہران میں بی بی سی کی نمائندہ فرانسس ہیریسن کے مطابق بھی اگرچہ یہ ملاقات علامتی طور پر اہم ہے لیکن اس سے دوطرفہ تعلقات میں کسی ڈرامائی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ اس بات چیت میں ایرانی مؤقف ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خیالات کا ترجمان ہوگا۔ ان کے مطابق’اس ملاقات کا مقصد عراق پر قابض امریکیوں کو باور کروانا ہے کہ ملک میں قیامِ امن ان کی قانونی ذمہ داری ہے‘۔ آیت اللہ خامنہ ای امریکہ کو ایک ضدی اور خود سر نوآبادیاتی ملک قرار دیتے ہیں۔ |
اسی بارے میں امریکی ہلاکتوں پر تعزیتی دن27 May, 2007 | آس پاس سنی برادری سے اتحاد کی اپیل26 May, 2007 | آس پاس مقتدیٰ الصدر کئی ماہ بعد دیکھے گئے 25 May, 2007 | آس پاس عراق: کانگریس نے فنڈز منظور کر دیے24 May, 2007 | آس پاس فلوجہ: کار دھماکہ، 40 افراد ہلاک24 May, 2007 | آس پاس لاپتہ امریکی فوجی کی لاش ملی گئی23 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||