’عراقیوں کا قتل تو معمول کی بات تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
2005 میں حدیثہ میں عراقیوں کے قتل کی تحقیقات کرنے والے امریکی فوج کے جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اعلٰی امریکی فوجی حکام نے امریکی میرینز کے سامنے حالات کی ایسی تصویر کشی کی کہ ان کے نزدیک عراقیوں کی جان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ 2006 میں پیش کی جانے والی یہ رپورٹ کے اقتباسات اب ڈی کلاسفائیڈ ہونے کے بعد امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوئے ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق میجر جنرل ایلڈن بارجویل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی فوج کے حکام نے نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں کے بہت سے واقعات پر بھی توجہ نہیں دی۔ اخبار کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’ کمان کی ہر سطح پر عام شہریوں کی ہلاکتوں کو، چاہے وہ بڑی تعداد میں ہی کیوں نہ ہوں، ایک معمول کی بات اور مزاحمت کاری کا قدرتی نتیجہ سمجھا گیا‘۔ حدیثہ کے حوالے سے امریکی جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اس واقعے میں ملوث میریز کے بیانات سے یہ واضح ہے کہ ان کے نزدیک عراقیوں کی جان امریکیوں کی جان کے مقابلے میں اہم نہیں تھی اور وہ ہر قیمت پر اپنا کام مکمل کرنا چاہتے تھے۔ حدیثہ قتلِ عام کے حوالے سے امریکی فوج کی جانب سے جو ابتدائی بیان جاری کیا گیا تھا اس کے مطابق ایک امریکی فوجی اور پندرہ عام شہری ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوئے اور اس کے بعد ہونے والی لڑائی میں آٹھ مزاحمت کار بھی مارے گئے تھے۔ تاہم بعد ازاں ایک مقامی صحافی نے جو ویڈیو بنائی تھی اس میں امریکی فوجیوں کو عام عراقی مردوں،عوررتوں اور بچوں کو ان کےگھروں میں ہلاک کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے بعد امریکی فوج کی جانب سے معاملے کی تحقیق کی گئی اور پھر کہا گیا کہ اس واقعے میں چوبیس عراقی شہری ہلاک ہوئے اور ان میں سے کوئی بھی بم کا نشانہ نہیں بنا تھا۔ان تحقیقات کے بعد سے اب تک تین امریکی میرینز پر قتل اور چار پر اس معاملے کو چھپانے کے حوالے سے فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔ | اسی بارے میں حدیثہ ہلاکتیں، مشکلات میں اضافہ29 December, 2006 | آس پاس امریکی فوجیوں پر قتل کا مقدمہ22 December, 2006 | آس پاس حدیثہ: امریکی فوجیوں پر فردِ جرم21 December, 2006 | آس پاس حدیثہ: اعلیٰ افسران کی ’لاپرواہی‘08 July, 2006 | آس پاس تین امریکی فوجیوں پر فردِ جرم عائد20 June, 2006 | آس پاس قتلِ عام کی ویڈیو، تحقیقات کا آغاز02 June, 2006 | آس پاس اگر جرم کیا ہے تو سزا ملے گی: بش01 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||