تین امریکی فوجیوں پر فردِ جرم عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوجی نے کہا ہے کہ تین عراقی قیدیوں کے قتل کے الزام میں تین امریکی فوجیوں پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ مرنے والے زیرِ حراست عراقیوں کو ایک کارروائی میں تکریت کے قریب نو مئی کو ہلاک کیا گیا تھا۔ تینوں امریکی فوجیوں کے خلاف قتل، قتل کی کوشش اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ کی سازش جیسے الزامات ہیں۔ عراق میں امریکی فوجیوں کو عام شہریوں کو غیر قانونی طور پر ہلاک کرنے کے کئی الزامات کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیں ان پر یہ الزامات بھی ہیں کہ انہوں نے عراقی قیدیوں کو گالیاں دیں۔ حال ہی میں امریکی فوج نے حدیثہ میں چوبیس نہتے شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ گزشتہ سال ہونے والے اس واقعے مکا الزام امریکی میرینز پر لگا ہے۔ امریکی فوج نے اس تازہ ترین الزام کی تحقیقات میں زیادہ دیر نہیں کی کیونکہ حدیثہ کے واقعہ میں اس پر الزام لگا تھا کہ اس نے چوبیس شہریوں کے مرنے کی انکوائری میں تیزی نہیں دکھائی تھی۔ تاہم واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس کہتے ہیں کہ امریکہ کی اعلیٰ ترین فوجیوں پر قتل کے الزامات لگنے سے خود فوج کی شہرت متاثر ہوئی ہے۔ یہ تین امریکی فوجی جن پر تین عراقیوں کے قتل کا الزام لگا ہے 101 ائربورن ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان فوجیوں کے خلاف اسی دن انکوائری کا حکم دے دیا گیا تھا جس دن عراقیوں کا مبینہ قتل ہوا۔ تاہم امریکی فوج نے اس واقعہ کی مزید تفیصل نہیں بتائی۔ | اسی بارے میں اگر جرم کیا ہے تو سزا ملے گی: بش01 June, 2006 | آس پاس تفصیلات سامنے لائیں گے: امریکہ 31 May, 2006 | آس پاس عراق: ہزاروں جانیں ضائع 16 June, 2006 | آس پاس حدیثہ: قتل عام کی تحقیقات ہوگی30 May, 2006 | آس پاس امریکی فوجیوں کے اغوا کا دعوٰی19 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||