امریکی فوجیوں کے اغوا کا دعوٰی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مزاحمت کاروں کے ایک گروہ نے دعوٰی کیا ہے کہ جمعہ سے لاپتہ ہونے والے دو امریکی فوجی ان کے قبضے میں ہیں۔ انٹرنیٹ کی ایک ویب سائٹ پر جاری کردی بیان میں القاعدہ سے منسلک ’مجاہدین شورہ کونسل‘ نامی تنظیم نے کہا ہے کہ ان فوجیوں کو یوسفیہ کے نزدیک سے اغوا کیا گیا تھا۔ یوسفیہ کا علاقہ بغداد کے جنوب میں واقع ہے۔ بیان کے مطابق ان فوجیوں کو ایک چیک پوائنٹ سے اغوا کیا گیا تھا جہاں وہ تعینات تھے۔ امریکی فوج نے غائب ہوجانے والے فوجیوں کے نام کرسٹین مینچاکا اور تھامس ٹکر بتائے ہیں اور ان دونوں امریکی فوجیوں کا تعلق 101 ایئر بورن ڈویژن سے ہے۔ پہلے بیان کے چند منٹ بعد ہی تنظیم نے دوسرا بیان بھی جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تین جون کو انہوں نے چار روسی سفارتکاروں کو اغوا کیا تھا اور ان کے پانچویں ساتھی کو ہلاک کردیا تھا۔ ابھی تک ان دعووں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ پہلا بیان کچھ یوں تھا ’مجاہدین شورہ کونسل کی فوجی شاخ کے بھائیوں نے یوسفیہ کے نزدیک دو امریکی فوجیوں کو اغوا کیا ہے‘۔ دوسرے بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے بغداد کے منصور علاقے میں روسی سفارتکاروں کے ایک قافلے پر حملہ کیا تھا۔ اس علاقے میں بہت سے سفارتخانے قائم ہیں۔ بیان کچھ یوں تھا ’خدا نے شیروں کو اس قابل کیا کہ انہوں نے چار روسی سفارتکاروں کو اغوا اور پانچویں کو ہلا ک کردیا‘۔ بیان میں روسی حکومت سے چیچنیا کے علاقے سے اگلے 48 گھنٹے کے دوران فوج کے انخلاء کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ اغوا کے دعوے اسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب امریکی فوجیوں نے رمادی کے شہر میں اپنے آپریشن میں مزید توسیع کی ہے۔ شہر کے مشرق حصے میں فوج کے داخل ہونے کے ساتھ فضا میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ علاقہ مزاحمت کاروں کا گڑھ ہے۔ | اسی بارے میں بغداد، رمادی میں دھماکے، دس ہلاک23 October, 2004 | آس پاس رمادی مزاحمت کاروں کے پاس09 November, 2004 | آس پاس بغداد اور رمادی میں زبردست لڑائی18 April, 2006 | آس پاس رمادی جھڑپیں: تین ہلاک، پندرہ زخمی26 February, 2005 | آس پاس عراق: حملوں میں 80 افراد ہلاک05 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||