رمادی مزاحمت کاروں کے پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلوجہ میں امریکی حملے کے بعد مزاحمت کاروں نےجوابی کارروائی کرتے ہوئےعراق کے کئی دوسرے شہروں پر حملے کیے ہیں اور رمادی میں سینکڑوں مزاحمت کاروں نے شہر کے وسط میں مورچے سنبھال لیے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چوبیس گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد رمادی میں مزاحمت کارروں کے شہر کے وسط میں کنٹرول کے نتیجے میں امریکی فوج شہر سے چلی گئی ہے۔ عراق کے عبوری وزیرِ اعظم ایاد علاوہ نے اسی دوران فلوجہ میں مزاحمت کاروں سے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور امریکی اور عراقی فوج کو بغیر مزید حملوں کے شہر کا کنٹرول حاصل کرنے دیں۔ ادھر بغداد کے شمال میں بعقوبہ شہر میں مزاحمت کاروں نے پولیس سٹیشنوں پر حملے کیے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان حملوں میں چالیس کے قریب افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے۔ ادھر شمالی شہر کرکک میں نیشنل گارڈز کے اڈے کے قریب ہونے والے ایک خودکش کار بم حملے میں کم از کم دو عراقی ہلاک ہو گئے ہیں۔ بغداد میں بھی کئی دھماکے سنے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بغداد کے اہم ہسپتال کے باہر ایک کار بم حملے میں کم از کم تیرہ افراد کی ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ عراق کی سب سے بڑی سنی سیاسی جماعت نے کہا ہے کہ اگر فلوجہ پر حملہ نہ روکا گیا تو وہ عبوری حکومت سے علیحدگی اختیار کر لے گی۔ جماعت کے نمائندے وزیرِ اعظم ایاد علاوی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ ادھر امریکی اور عراقی فوجوں نے مزاحمت کاروں کے مبینہ بڑے مرکز فلوجہ پر شدید بمباری کی ہے۔ پندرہ ہزار فوجی، ہوائی جہازوں، ٹینکوں اور توپ خانے کے ساتھ شہر پر ہر طرف سے حملہ آور ہیں۔ شہر کا آسمان دھماکوں اور شعلوں سے بار بار چمک اٹھتا ہے اور جنگ کے دھماکوں سے عمارتیں لرز رہی ہیں۔ بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے جو فوجوں کے ساتھ ہے بتایا ہے کہ شہر کے اطراف میں گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||