BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 December, 2006, 19:33 GMT 00:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدیثہ ہلاکتیں، مشکلات میں اضافہ
حدیثہ قتل عام
حدیثہ میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قتل عام میں چوبیس عام شہری ہلاک ہوئے تھے
عراق کے شہر حدیثہ میں شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ امریکہ کے لیے مزید سبکی کا باعث ہے اور اس سے اس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

امریکی فوجیوں پر حدیثہ میں خواتین اور بچوں سمیت دو درجن سے زائد معصوم شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں مقدمہ دائر کیا جاچکا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب عراق میں امریکہ کی تمام جنگی حکمت عملی ناکام ثابت ہورہی ہے اور بش انتظامیہ پر ہر طرف سے نکتہ چینی ہورہی ہے حدیثہ کا واقعہ اس کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

چند روز پہلے صدر بش خود کہہ چکے ہیں کہ امریکہ ’جنگ نہیں جیت رہاہے‘ اور حدیثہ جیسے واقعات نہ صرف جنگ بلکہ لوگوں کے دل جیتنے میں اور مشکلات پیدا کریں گے۔

امریکی فوج اس طرح کی خبروں کے لیے پہلے سے تیاری کر رہی تھی اور ان واقعات کے بعد اس نے فوجیوں کو جنگی اقدار اور اخلاقیات کےمتعلق تربیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر ان چیف جنرل پیٹر شریلی کا کہنا ہے’ہمیں ایسے اخلاق و اقدار کا پابند ہونا چاہیے جو دشمنوں کے مقابلے میں امتیازی خصوصیات کی حامل ہوں۔‘

فوج کو احساس ہے کہ ایسے واقعات ان کے کام کو مزید مشکل بنادیں گے۔ ان کی خواہش ہے کہ اس واقعے صرف ایک واقعے کے طور پر دیکھا جائے گا۔

لیکن امریکی فوجیوں پر ظالمانہ سلوک کا الزام متعدد بار لگ چکا ہے۔ پہلے ابو غریب جیل کے واقعات سامنے آئے تھے، جن سےامریکہ دنیا بھر میں شرمسار ہوا پھرحمدانیہ اور محمدیہ کے واقعات ہوئے۔

امریکہ کے مخالفین کی نظر میں عراق میں امریکہ کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں کی ان گنت مثالیں ہیں اور صدر بش سوچتے ہیں کہ وہ ایسےواقعات کی تفتیش اور مقدمہ چلاکے تاثرات درست کر لیں گے۔

ابو غریب کے واقعات کی وافر تصویریں تھی، لیکن حدیثہ کے واقعات کے متعلق ایسے ثبوت نہیں ہیں اس لیے امریکی عوام پر اس کا وہ اثر نہیں ہوا جو ابو غریب کے متعلق ہوا تھا۔

یہ مقدمہ اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ اس میں گواہوں کے علاوہ ثبوت کم ہیں اس لیے ممکن ہے خطاوار بچ جائیں۔ لیکن عوام اور فوج پر اس کا کچھ اثر تو ضرور پڑے گا۔

اس طرح کے واقعات سے صدربش اور فوج کے سربراہوں پر بھی خاص اثر پڑنا چاہیے کہ آخر عراق میں ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد