حدیثہ: اعلیٰ افسران کی ’لاپرواہی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے حدیثہ میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات میں لاپرواہی برتی تھی۔ میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ حدیثہ میں چوبیس عراقی شہریوں کی ہلاکت کی امریکی فوج نے جو اندرونی تحقیقات کرائی ہے وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اعلیٰ افسروں نے ہلاکتوں کی متضاد رپورٹوں کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کی۔ امریکی فوج نے ابتدا میں یہ کہا تھا کہ گزشتہ نومبر حدیثہ میں ہونے والی ہلاکتیں ایک بم دھماکہ اور مزاحمت کاروں کے ساتھ ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں پیش آئیں تھیں۔ تاہم بعد میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ان افراد کو ہلاک کردیا۔ امریکی ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی رپورٹوں کے مطابق ہلاکتوں کو دنیا سے چھپانے کے الزامات کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے ان غلط بیانیوں اور غلط معلومات کی تفتیش نہیں کی جن کی وجہ سے سوالات ابھر رہے تھے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے امریکی ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والی ان رپورٹوں پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ علیحدہ سے یہ جاننے کے لیے ایک انکوائری جاری ہے کہ کیا امریکی فوجیوں نے حدیثہ میں ان چوبیس عراقیوں کو ہلاک کیا۔ | اسی بارے میں حدیثہ کی آنکھوں دیکھی تفصیل 31 May, 2006 | آس پاس تفصیلات سامنے لائیں گے: امریکہ 31 May, 2006 | آس پاس اگر جرم کیا ہے تو سزا ملے گی: بش01 June, 2006 | آس پاس ’امریکی رپورٹ کی کاپی نہیں ملی‘29 June, 2006 | آس پاس ’امریکی فوج عراق میں رہے گی‘04 August, 2005 | آس پاس عراق: چودہ امریکی فوجی ہلاک03 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||