BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 June, 2008, 08:41 GMT 13:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل کی قیمتیں، جی ایٹ کا اجلاس
فائل فوٹو
عالمی بازار میں تیل کی قمیتوں کے مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جی ایٹ کے توانائی کے وزراء کی ایک میٹنگ جاپان میں ہو رہی ہے جس میں عالمی بازار میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سبب دنیا کی معیشت پر پڑنے والے اثرات پر غور و فکر کیا جا رہا ہے۔

یہ میٹنگ جاپان کے ہوشنو جزیرے میں واقع شہر اومیری میں ہو رہی ہے۔ عالمی بازار میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سبب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جی ایٹ ممالک کے وزاء ایک ایسے وقت میں یہ میٹنگ کر رہے ہیں جب تیل کی قمیتیں آسامان چھو رہی ہیں اور اس کے سبب عام آدمی بری طرح پریشان ہے۔ عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ایک بیرل تیل کی قیمت 139 امریکی ڈالر پہنچ گئی ہے۔

اس وقت وینیزویلا اور سعودی عرب کے علاوہ بیشتر ممالک کی حکومتوں نے سبسڈی کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور ان اضافوں کا سب سے زیادہ اثر ہندوستان اور انڈوینشیا میں محسوس کیا جا رہا ہے۔

اس ہفتے کی شروعات میں ہندوستان نے پیٹرولیم اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بڑھی ہوئی قیمتوں کو واپس نہیں لے گی۔

امریکہ چاہتا ہے کہ ہندوستان اور چین پیٹرولیم پر سبسڈی ختم کریں لیکن ہندوستان کے عوام مہنگائی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں
ہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 75 فیصد تیل درآمد کرتی ہے اور عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ملک کی تیل کمپنیاں نقصان سے دوچار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کے پاس تیل کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہے۔

جی ایٹ ممالک کے وزراء کی میٹنگ میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کس طرح توانائی کی پیداوار کو بہتر بنایا جائے، توانائی کی تکنیک کو آپس میں بانٹا جائے اور اس کی پیداوار کے دیگر وسائل بنائے جائیں۔

لیکن امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک اس بات پر پہلے ہی ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں کہ بعض ممالک پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دے رہے ہیں اور جس کے سبب تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ حکومتیں جب پیٹرولیم کی ایک مصنوعات پر قیمت بڑھاتی ہیں اور دوسری پر نہیں تو اس کی کھپت زيادہ ہوتی ہے جس کے سبب تیل کی قمیتیں بڑھتی ہیں۔

اس میٹنگ میں برطانیہ کی نما‏ئندگی کرنے والے بزنس سیکریٹری جان ہٹن اس بات کو بھی واضح کریں گے کہ تیل کی پیداوار کو بڑھایا جائے جس سے تیل کی قمیتیں کم ہوسکیں گیں۔

دنیا میں چین، امریکہ، جاپان، انڈیا اور جنوبی کوریا ایسے ممالک ہیں جہاں تیل کی کھپت سب سے زیادہ ہے اور ان ممالک سے کہا جائے گا تیل کی قمیتوں کو کم کرنے کے لیے وہ تیل کی پیداوار کو بڑھائیں۔

 تیل کی قمیتوں کے اضافے کے سبب دنیا بھر میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، خوراک کے بحران کا خدشہ ہے اور اس کا اثر سب سے زیادہ عام عوام پر پڑ رہا ہے اور ایک ایسی صورتحال میں کسی بھی ترقی پزیر ممالک کے لیے مزید اضافے کرنا ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔
امریکہ کے توانائی کے سیکریٹری سیمول بوڈمین کا کہنا ہے کہ ’ تیل کی پیداوار کرنے والے ممالک کا امریکہ کی معیشت کو گڑبڑاتے ہوئے دیکھنا صحیح نہیں ہے، وہ بھی اپنی معیشت کی ترقی کے لیے وہ بہت حد تک امریکہ پرمنحصر ہیں۔‘

ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس ہوگ کا کہنا ہے سبھی ترقی پزیر ممالک میں تیل پر سبسڈی دینے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ غریب عوام مہنگائی کی مار بہت نہ جھیلیں۔

سیمول بوڈمین کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور چین کی جانب سے تیل پر سبسڈی دی جا رہی ہے جس کے سبب تیل کی کھپت بڑھ رہی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

بوڈمین نے اپیل کی ہے کہ صارفین ممالک اپنے یہاں تیل پر سبسڈی کم کریں تیل کی پیدوار کرنے والے ممالک پیداوار بڑھائیں۔ ہندوستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس کا تیل پر سبسڈی پوری طرح سے ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جاپان میں ہونے والی سنیچر کی میٹنگ میں ہندوستان کے نمائندے نے کہا ہے کہ ملک ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں لے سکتا جس میں عالمی بازار یہ طے کرے کہ اس کے شہری کیا قیمت دیں۔

چین بھی یہ واضح کرچکا ہے کہ ابھی اس کا سبسڈی کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سبسڈی ختم کرنے سے پہلے اس کے لیے یہ سوچنا ضروری ہے کہ اس سے ملک کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ہندوستان میں تیل کی قمیتوں کے اضافے کے بعد پہلے ہی عام عوام حکومت سے سخت ناراض ہے اور اس کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں اور دیگر تنظيمیں احتجاج کر رہی ہیں۔

تیل کی قمیتوں کے اضافے کے سبب دنیا بھر میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، خوراک کے بحران کا خدشہ ہے اور اس کا اثر سب سے زیادہ عام عوام پر پڑ رہا ہے اور ایک ایسی صورتحال میں کسی بھی ترقی پزیر ممالک کے لیے مزید اضافے کرنا ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔

بوڈمین کا کہنا ہے کہ جی ایٹ کے توانائی کے وزراء کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں ہونے والے فیصلوں اور بات چيت کا ایک دم کوئی اثر نہیں ہوگا۔

عالمی بازار میں فی الوقت ایک بیرل تیل کی قمیت 139 امریکی ڈالر ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ اٹھارہ ماہ میں یہ قیمت ممکنہ طور پر 200 فی بیلر امریکی ڈالر پہنچ سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد