تیل کی مہنگائی سے پریشانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں تیل اورگیس کی قمیتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد حکومت پر زبردست تنقید ہو رہی ہے، افراط زر کی شرح بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جی ڈ پی یعنی مجموعی ملکی پیداوار کے کم ہونے کا بات ہو رہی ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہے۔ ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے پاس تیل کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی اور متبادل ہی نہیں تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی مار سب سے زیادہ عام آدمی کو جھیلنی ہوگی لیکن اس کا اثر حکومت آئندہ عام انتخابات میں محسوس کرے گی۔ گزشتہ روز جیسے ہی حکومت نے تیل کی قیمتوں کا اعلان کیا تو پورے بھارت میں ہنگامہ مچ گیا۔ ٹی وی چینلز، اخبارات میں تو تیل کی قیمتوں پر بحث و مباحثے ہوئے حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور کہا کہ یو پی اے حکومت عام آدمی کا خون چوس رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ خود حکومت کی حمایتی بائيں محاذ نے حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان روی شنکر پرساد نے کہا کہ حکومت اقتصادی نظام کے ساتھ کھیل رہی ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حکومت عام آدمی کو مہنگائی سے بچائے لیکن حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وہیں بائیں بازوں کی جماعتوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ بائیں بازوں کی جماعتیں حکومت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو واپس لیں‘۔
قیمتوں میں اضافے کے سبب حکومت کی زبردست نکتہ چینی ہورہی ہے لیکن وزیر اعظم منموہن سنگھ ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تیل کی قیمتیں نہیں بڑھائی جاتیں تو عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے سبب رواں مالی سال سے سال کے آخر تک ملک کی تیل کی کمپنیوں کو پچاس ارب ڈالر کا نقصان ہوتا۔ ان کے مطابق تیل کی کم قیمتوں کے سبب تیل کمپنیوں کو روزانہ 7 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تیل کی کمپنیاں ریٹیل مارکیٹ میں پیٹرول پر فی لیٹر 22 روپے اور ڈیزل پر 32 روپے کا نقصان اٹھا رہی تھیں۔ حکومت کا کہنا ہے اگر اسے تیل خریدنا ہے تو زیادہ قیمت دینی ہوگی جس کا کچھ بوجھ عوام کو بھی اٹھانا ہوگا۔ اقتصادیت کے ماہر پرانجوائے گوہا ٹھاکرتا کا کہنا ہے کہ تیل کی کمپنیاں ابھی بھی نقصان میں ہیں۔ ’ہندوستان کی تیل کی کمپنیوں کو گزشتہ برس ستر ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا اور عالمی بازار میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے اس رواں سال یہ نقصان دو لاکھ کروڑ ہوجاتا۔ جو کہ ملک کی مجموعی پیداوار کے قریباً پانچ فیصد کے لگ بھگ ہے۔ اگر حکومت قیمتوں میں اضافہ نہیں کرتی تو یہ کمپنیاں ختم ہو جاتیں‘۔
ہندوستان اپنی ضروریات کا پچہتر فیصد تیل درآمد کرتا ہے اور عوام کو تیل سبسڈائزڈ قیمت پر دینے کے لیے حکومت تیل کی کمپنیوں کو ایک بڑی رقم دیتی ہے۔ ہندوستان میں تیل کے قیمتوں کے اضافے سے پہلے ہی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور دالوں اور چاول کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں۔ مہنگائی کے سبب ملک میں میں افراط زر کی شرح آٹھ فیصد سے زیادہ پر پہنچ گئی ہے اور اب تیل کی قمیتوں میں اضافے کے سبب افراط زر کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جس کا سیدھا اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ اقتصادیت کی ماہر انورادھا ڈی پٹیل کا کہنا ہے کہ ’خود حکومت کہہ چکی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے سبب افراط زر کی شرح نصف فیصد بڑھ سکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک فیصد تو بڑھے گی ہی۔ اگر افراط زر کی شرح نو فیصد ہو جاتی ہے تو اس سے مڈل کلاس تو متاثر ہوگی ہی لیکن اس سے 350 ملین غریب افراد بری طرح متاثر ہوں گے‘۔
قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ملک کی اقتصادی ترقی کو بنائے رکھنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بڑھتی ہوئی افراطِ زر کو سامنے رکھتے ہوئے ہندوستان کا یہ دعوٰی سچ ثابت ہو سکتا ہے کہ ملک کی مجموعی پیدوار آئندہ برسوں میں 10 فیصد کی شرح سے آگے بڑھے گی؟۔ اقتصادیت کے ماہر انشومن تیواری کا کہنا ہے کہ اب یہ ناممکن لگتا ہے کیونکہ اگر مہنگائی بڑھتی ہے تو بازار میں ڈیمانڈ کم ہوتی ہے اور جب ڈیمانڈ کم ہوتی ہے تو پیداوار کم ہوتی ہے اور اس کا اثر مجموعی پیداوار پر پڑے گا اور مجموعی پیدوار کی شرح کو 8 فیصد پر برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے 1970 میں حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اس طرح کا اضافہ کیا تھا لیکن اس وقت ہندوستان میں تیل کی کھپت آج کے مقابلے کم تھی لیکن آج ایک ایسے وقت میں جب ہر برس 12 لاکھ سے زائد گاڑیوں کا اضافہ ہو رہا ہے اور ریٹیل انڈسٹری کے بڑھنے سے سبزیوں، دالوں، دودھ اور ديگر ضروری اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے ٹرکوں کا استعمال ہوتا ہے تیل کی قیمتوں کے اضافے کا اثر ضرورت کی ہر ایک چیز پر پڑے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عام آدمی جب حکومت کا انتخاب کرتا ہے تو اس کے لیے مہنگائی سے بڑا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے اور اس کا اثر کانگریس پارٹی پر آئندہ عام انتخابات میں ضرور پڑے گا۔ |
اسی بارے میں انڈیا: پیٹرولیم کی قیمت میں اضافہ04 June, 2008 | انڈیا مہنگائی کے خلاف بی جے پی کی ہڑتال02 May, 2008 | انڈیا انڈیا: ایک لاکھ کی کار سے انقلاب 10 January, 2008 | انڈیا گجرات: سیاسی بے اطمینانی کی فضا28 November, 2007 | انڈیا منجوناتھ کے قاتلوں کو سزائیں26 March, 2007 | انڈیا پٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی15 February, 2007 | انڈیا ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی 29 November, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||