انڈیا: ایک لاکھ کی کار سے انقلاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک وقت تھا جب ہندوستان جیسے ملک میں لوگوں کی گھر بنانے اور کار خریدنے کی خواہش سبھی خواہشوں سے اوپر ہوتی تھی۔ لیکن جیسے جیسے ملک کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، زیادہ لوگوں کے پاس کم عمر میں پیسہ آنے لگا اور انکی خواہشیں بھی چھلانگیں مارنے لگیں۔ اور یہ ہو بھی کیوں نا۔ ملک کی بڑی کمپنیوں اور برانڈز نے وہ سب کردیا ہے جس سے عام آدمی کے خواب کو پورا ہوسکے۔ گلوبلائزیشن کے زمانے میں ان خوابوں کو مزید پورا کرنے میں ٹاٹا موٹرز نے صرف ایک لاکھ روپئے کی گاڑی بناکر کر تاریخ رقم کردی ہے۔ سال دو ہزار آٹھ جنوری کی دس تاریخ کو ہندوستان کی موٹر سازی کی تاریخ میں سب سے بڑے نہ بھی صحیح تو سب سے اہم دن کے طور پر ضرور یاد کیا جائے گا۔ آج کے دن ملک کی سب سے بڑی موٹرز کمپنی ٹاٹا کمپنی نے ’ نینو‘ نام کی گاڑی کی رونمائی کی۔ رونمائی کے وقت چار پہیوں کی اس پیٹرول گاڑی کے نیلے، سفید، پیلے اور لال رنگ میں پیش کیا گیا۔ ٹاٹا کی اس نئی پیش کش کو ’ پیپلز کار‘ یعنی ’عوامی کار‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کار کے تین ماڈل بازار میں پیش کیےگئے ہيں۔ نینو اسٹینڈرڈ کی قیمت ایک لاکھ روپے ہوگی اور اس کے ساتھ دو قسم کی ڈیلکس بھی دستیاب ہوں گي جس میں ائیر کنڈیشننگ کی سہولت بھی شامل ہے۔ کار لال، پیلے اور روپہلے تین رنگوں میں بازار میں آئے گی۔ اس موقع پر رتن ٹاٹا نے کہا کہ’اس کار کے آنے سے عام آدمی کا خواب پورا ہوگا۔‘
یہ گاڑی نہ صرف سستی ہے بلکہ اس تیل کا خرچ بھی کم ہوتا ہے اور یہ حفاظت کے سبھی ٹیسٹ پار کرچکی ہے۔ یہ گاڑی ان افراد کے لیے خاص طور سے پرکشش ہوگی جو اپنی فیملی کے ساتھ غیر محفوظ طریقے سے اسکوٹر اور موٹر بائیک پر سفر کرتے ہیں۔‘ نینو کار دنیا کی سب سے سستی چار پہیوں والی گاڑی ہے۔ اور کہا جارہا ہے کہ یہ کار ہندوستان کی موٹر کی دنیا میں ایک انقلاب لا سکتی ہے۔ نیو کار کو ستمبر میں بازار میں لایا جاۓ گا۔ اس کار کے بارے میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ یہ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر فروخت ہوگی۔ صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے رتن ٹاٹا نے کہا کہ نینو کار ہندوستانی سڑکوں اور ٹریفک کے لحاظ سے ایک مناسب کار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات صحیح ہے کہ ہندوستان کی سڑکیں اور ٹریفک نظام اس اعلیٰ درجے کا نہیں ہے جہاں زیادہ سے زیادہ گاڑیاں بنا کسی پریشانی سے چل سکیں لیکن اس کا یہ ’مطلب نہیں کہ لوگوں کے پاس گاڑیاں نہ ہوں۔‘ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا کمپنی نے یہ گاڑی کسی خاص طبقے کے لوگوں کو دھیان میں رکھ کر بنائی ہے تو ان کا کہنا تھا ’نینو کار سبھی کے لیے ہے اور گاڑی بنانے سے پہلے یہ نہیں سوچا گیا کہ اسے شہر کے لوگ زیادہ خریدیں گے یا گاؤں کے لوگ۔ یہ سب کی کار ہے۔ ‘ ٹاٹا کمپنی کے اس نئی پیش کش کو دیکھنے کے لیے جہاں میڈیا میں زبردست دلچسپی دیکھی گئی وہیں عام لوگوں میں بھی کافی جوش تھا۔ جس نے بھی گاڑی دیکھی اس نے یہی کہا کہ ’ اسے تو میں آسانی سے خرید سکتا ہوں۔ ‘ اور شاید یہیں ٹاٹا کا مقصد پورا ہوگیا ہوگا۔
دلی کے پرگتی میدان میں نینو کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے آئے کنور کمار کا کہنا تھا ’میرے لیے سب سے فخر کی بات ہے کہ ہماری ہندوستانی کمپنی نے یہ گاڑی بنائی ہے۔ اب تو میں بائیک کے بجائے یہ گاڑی آسانی سے خرید سکتاہوں۔ اپنے نوکر کو بھی یہ گاڑی خریدوا دونگا۔‘ ستپال سنگھ کا کہنا تھا ’اگر اتنی بھیڑ میں ایک لاکھ کی گاڑی آئے گی تو سڑکوں پر جام بڑھے گا۔ ایک بات ہے کہ ہمارا گاڑی خریدنے کا خواب ضرور پورا ہوا ہے لیکن خواب ڈاونا ہوگیا ہے کیونکہ اگر گاڑی خریدنی ہے تو جام میں کھڑے ہونے کے لیے بھی تیار ہوجائیں۔ ‘ گاڑی کے دیکھنے کے لیے صرف عام عوام ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے کار ریسر نارائن کارتیکین بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا ’ایک لاکھ کے گاڑی آنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ کار خریدنے کا خواب پورا کرسکیں گیں۔‘ پرگتی میدان کے سات نمبر ہال میں جہاں ایک طرف نینو کی رونمائی کی خوشیاں منائی جارہیں تھیں۔ گاڑی کمیرا مین کے کمیروں کے لائٹس اور روشنی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ وہیں مغربی بنگال کے سنگور علاقے میں کشیدگی پھیلی ہوئی ہے۔ نینو کارکے لیے ایک فیکٹری اسی علاقے میں بنی ہوئی ہے اور مقامی لوگ اور غیر سرکاری تنظیمیں پہلے سے ہی اس فیکٹری کی مخالفت کررہے ہیں۔ گاڑی کے قریب ہی کولکاتہ کے سنگور شہر میں ٹاٹا کمپنی کے مخالفین اپنا خاموش احتجاج کررہے تھے۔ احتجاج میں شامل دلی سولیڈارٹی گروپ کی ممبر رادھیکا تلوار کا کہنا تھا: ’ٹاٹا نے سنگور میں اپنا پلانٹ لوگوں کی زمین پر لگایا ہے۔ کمپنی نے لوگوں کو ان کی زمین کا معاوضہ بھی نہیں دیا ہے۔ اور کمپنی کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی ہوئی ہے جس میں کئی افراد مارے گئے۔ ہم اس کار کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ یہ گاڑی اس زمین پر بنی ہے جو عام لوگوں سے ہڑپی گئی ہے۔‘ ٹاٹا کمپنی کے خلاف احتجاج تیز ہوا اور اگر سنگور میں اور خونریزی ہوئی تو اس کار کے بازار میں آنے میں یقیناً تاخیر ہوسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں ہندوستان میں ایک لاکھ کی کار10 January, 2008 | انڈیا ٹاٹا کمپنی کے توسیعی منصوبے31 March, 2007 | انڈیا بھوک ہڑتال سے ممتا کی حالت خراب29 December, 2006 | انڈیا اینگلو ڈچ سٹیل کمپنی ٹاٹانےخریدی20 October, 2006 | انڈیا ٹاٹا حصص کی زبردست پذیرائی25 August, 2004 | انڈیا ٹاٹا کی حصص بازار میں ہلچل29 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||