ٹاٹا کمپنی کے توسیعی منصوبے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی نجی کمپنی’ٹاٹا‘نے اپنے آئندہ شروع ہونے والے توانائی کے منصوبوں کو مزید وسیع کرنے کے لیے انڈونیشیا کی دو ’تھرمل کول‘ کمپنیوں کا تیس فیصد حصہ خرید لیا ہے۔ ٹاٹا کمپنی مغربی ہندوستان میں توانائی کے دو منصوبے شروع کرنے والی ہے۔ یورپین سٹیل کمپنی’ کورس‘ کو خریدنے کے بعد ٹاٹا کمپنی کا یہ دوسرا سب سے بڑا سودا ہے۔ ٹاٹا کمپنی نے یہ سودا ایک بلین ڈالر میں کیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے کے بعد کمپنی کو سات ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ معاہدے کے مطابق انڈونیشیا کی دونوں کمپنیاں ٹاٹا کمپنی کو مشترکہ طور پر دس ملین ٹن کوئلہ فراہم کريں گی جس سے ٹاٹا کمپنی گجرات اور مغربی ساحلی علاقے میں سات ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹاٹا کو ديگر ذرائع سے گیارہ ملین ٹن کوئلے کی ضرورت ہوگی جو وہ دیگر ممالک سے درآمد کرے گا۔ ٹاٹا کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر پرساد آر مینن کا کہنا ہے ’ اس معاہدے سے نہ صرف کمپنی کے توانائی سے متعلق تجاویز کو فروغ دینے میں مدد ملے گی بلکہ کمپنی ملک اور غیر ممالک میں عالمی سطح کی بجلی فراہم کرنے اور توانائی کی تجارت کرنے میں بھی کامیاب ہوگی‘۔ ٹاٹا ہندوستان میں سب سے بڑی نجی پاور کمپنی ہے لیکن فی الوقت یہ صرف دو ہزار تین سو میگا واٹ بجلی ہی پیدا کر پاتی ہے لیکن آئندہ پانچ برسوں میں اس نے اپنی پیداوار کو مزید وسیع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور ہندوستان کے مغربی ساحلی علاقے میں بجلی فراہم کرنا اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ ہندوستان میں محض ایک لاکھ پندرہ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے جو ملک کی بڑھتی ہوئی معیشت کی ضرورت کے لیے کم ہے۔ ہندوستان امید کر رہا ہے کہ وہ سنہ دو ہزار بارہ تک دو ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر کے ملک ميں بجلی کی کمی کو پورا کر پائےگا۔ | اسی بارے میں ٹاٹا نے کورس کی نیلامی جیت لی31 January, 2007 | انڈیا ٹاٹی ٹی سے ٹاٹا گروپ تک 31 January, 2007 | انڈیا ٹاٹا کے لیےکورس کا راستہ صاف31 January, 2007 | انڈیا نندی گرام: ہڑتال سے زندگی مفلوج 16 March, 2007 | انڈیا اینگلو ڈچ سٹیل کمپنی ٹاٹانےخریدی20 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||