مالی بحران،مشترکہ اقدام کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی رہنماوں نے بحران کا شکار مالیاتی اداروں کی مدد کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم پیرس میں ہونے والے ہنگامی سربراہی اجلاس میں اِن اداروں کے لیے کسی ایسے بڑے امدادی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا جیسا کہ دو روز قبل امریکہ میں کیا گیا تھا۔ یورپی رہنماوں نے عالمی معاشی بحران اور یورپ پر اُس کے اثرات کے بارے میں بات چیت کے لیے گزشتہ روز پیرس میں ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کی جس کی سربراہی فرانس کے صدر سرکوزی کر رہے تھے۔ اس اجلاس میں برطانیہ اور فرانس کے علاوہ جرمنی اور اٹلی کے رہنما شریک ہوئے۔ اِس موقع پر برطانیہ کے وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ مالیاتی نظام میں سرمائے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور یورپی رہنماوں کو اِس سلسلے میں مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ ’یہ بحران جس کا آغاز امریکہ سے ہوا ہے اِس نے تمام کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے لہذا ہم نے اِس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یورپی انویسٹمنٹ بینک سے کہا جائے کہ وہ چھوٹے کاروباری قرضوں کے لیے پچیس ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کرے۔ ہم نے اِس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ مالیاتی نظام میں جہاں غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے اُسے درست کرنے کے لیے زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں۔‘ یورپی رہنماوں کے اِس اجلاس میں فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے امریکہ میں سات سو ارب ڈالر کے پیکج کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اُن امور کے بارے میں بتایا جن پر یورپی رہنماوں نے اجلاس کے دوران اتفاق کیا ہے۔ فرانس کے صدر کے مطابق یورپی رہنماؤں نے ایک ایسی دستاویز پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت تمام ممالک کے سربراہان مالیاتی اور بینککنگ کے نظام کو مدد فراہم کرنے کے پابند ہونگے جو بحران کا شکار ہے۔ اِس سلسلے میں ہر ملک اپنے طریقے اور ذرائع کے مطابق کام کرے گا لیکن دوسرے یورپی ممالک کے ساتھ مربوط انداز میں۔ اجلاس کے آغاز سے قبل کہا جاا رہا تھا کہ یورپی رہنماؤں کی کوشش ہو گی کہ وہ آئندہ ہفتے جی ایٹ ممالک کے اقتصادي وزراء اور واشنگٹن میں سینٹرل بینک کے گورنرز کی میٹنگ سے پہلے کوئی اتفاقِ رائے قائم کر سکیں۔ فی الوقت ڈچ حکومت ہی اس بات کی حمایت کر رہی ہے کہ یورپین یونین کے 27ممالک معاشی اداروں اور بحران کا شکار بینکوں کی مدد کے لیے 250 بلین پاؤنڈ کی مدد فراہم کریں اور اس امدادی فنڈ کا استعمال اسی صورت میں کیا جائے جب کسی بھی ملک کے بینک یا معاشی ادارے سنجیدہ معاشی بحران کا شکار ہوں۔ بی بی سی کے نامہ نگار السٹر سینفورڈ کا کہنا کہ فرانس یورپین ممالک کو اس بات پر متفق کرنا چاہتا ہے کہ جب بھی یورپین بینکوں کو بچانے کی ضرورت ہو یہ ممالک مداخلت کریں اور معاشی مدد فراہم کریں۔ |
اسی بارے میں منصوبہ نامنظور، مارکیٹوں کا بُرا حال29 September, 2008 | آس پاس ’امریکہ کا بہت نقصان ہوگا‘ 30 September, 2008 | آس پاس دنیا میں ہر جگہ مندی ہی مندی29 September, 2008 | آس پاس امریکی معیشت خطرے میں ہے:بش25 September, 2008 | آس پاس مالیاتی بحران:’دنیا ہماری پیروی کرے‘22 September, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||