دنیا کے حصص بازاروں میں کہرام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خدشے کی وجہ سے دنیا بھر کےحصص بازار انتہائی مندی کا شکار ہوگئے ہیں۔ وال سٹریٹ جمعہ کے روز کھلنے کے ساتھ ہی مندی کا شکار ہو گئی۔ ڈاؤ جونز مارکیٹ کھلنے کے پہلے پانچ منٹ میں پانچ فیصد گر گئی جبکہ نسدک چھ فیصد گرگئی۔ یورپی بازار حصص میں لندن سٹاک مارکیٹ دوپہر تک چھ فیصد گر چکی تھی جبکہ فرینکفرٹ بازارِ حصص آٹھ فیصد گر گئی ہے۔ اس سے پہلے ایشیا کی مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ایشیا میں جاپان کی سٹاک مارکیٹ نِکی میں نو اعشاریہ چھ فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی جو کہ گزشتہ ساڑھے پانچ سال میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ الیکٹرانِک کمپنی سونی نے اپنے منافع کے تخمینے میں پچاس فیصد کمی کردی ہے۔ جنوبی کوریا کا حصص مارک دس اعشاریہ چھ فیصد نیچے گرگیا جس کی وجہ یہ تھی کہ سیمسنگ کمپنی نے جولائی-اگست- ستمبر کے اپنے منافع میں چوالیس فیصد کمی کا اعلان کیا۔ جنوبی کوریا میں اقتصادی ترقی کی شرح گزشتہ چار برسوں میں سب سے کم ہوگئی ہے۔ دارالحکومت سول کے حصص بازار کوسپی کا انڈیکس جعمہ کو ایک ہزار پوائنٹ نیچے بند ہوا جو کہ مئی دو ہزار پانچ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ کوسپی اس سال اپنی آدھی قیمت گنوا چکا ہے۔ ٹوکیو میں شِنکو سکیورٹیز کے یوتاکا میورا نے بتایا کہ سونی کمپنی کا اپنے منافع سے متعلق منفی اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی معیشت واقعی کساد بازاری کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا: ’سرمایہ کار عالمی معیشت کی کارکردگی کے بارے میں بڑھتی ہوئی غیریقینی پر فکرمند ہیں۔‘ دریں اثناء جاپانی کرنسی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہورہا ہے جس سے جاپان کے برآمدات کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ امریکی ڈالر چھیانوے ین کے نیچے آگیا ہے جو کہ تیرہ برسوں میں سب سے کم ہے۔ ہانگ کانگ میں فرسٹ شانگھائی سکیورٹیز کے لیِنس یِپ نے بتایا کہ مضبوط ین جاپانی برآمدات کو متاثر کررہا ہے۔ برآمدات جاپانی معیشت کا اہم جزو ہے۔ ایشیا کے تمام بازاروں میں حصص کی قیمتوں کے گرنے کا رجحان جاری رہا۔ ہانگ کانگ میں سات اعشاریہ تین فیصد، سنگاپور میں سات اعشاریہ پانچ فیصد، ممبئی میں سات اعشاریہ آٹھ فیصد اور سِڈنی میں دو اعشاریہ سات فیصد کی تنزلی دیکھی گئی۔ دریں اثناء ایشیا ممالک نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے اسی بلین ڈالر کا ایک ایمرجنسی فنڈ قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جبکہ بیجنگ میں ایشیا اور یورپ کے حکمران جمع ہو رہے ہیں جو عالمی کسادبازاری سے نمٹنے کے لائحۂ عمل پر غور کریں گے۔ امریکہ کے مرکزی بینک یو ایس فیڈریل ریزرو کے سابق سربراہ ایلن گرین سپین نے عالمی مالیاتی بحران کو ’صدی میں ایک مرتبہ آنے والی سونامی‘ قرار دیا ہے۔ واشنگٹن میں کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی مالی بحران کے اثرات اُن کی توقعات سے کہیں زیادہ وسیع نکلے ہیں۔ مسٹر گرین سپین کا کہنا تھا: ’ہم اس وقت صدی میں ایک مرتبہ آنے والی ایک مالیاتی سنامی کے درمیان کھڑے ہیں۔ مرکزی بینکوں اور حکومتوں کو وہ اقدامات کرنے پڑے ہیں جن کی پہلے کبھی ضرورت نہ تھی‘۔ |
اسی بارے میں برطانیہ: کساد بازاری کی وارننگ22 October, 2008 | آس پاس ’مالیاتی بحران ایک سونامی ہے‘23 October, 2008 | آس پاس جاپان کی حصص مارکیٹ میں مندی23 October, 2008 | آس پاس اوباما اور میکین: معیشت پر تکرار21 October, 2008 | آس پاس امریکہ: ٹیکس کم، اخراجات زیادہ20 October, 2008 | آس پاس چینی معیشت کو بھی خطرہ20 October, 2008 | آس پاس کوریا، غیر ملکی قرضوں کی ضمانت19 October, 2008 | آس پاس مالیاتی بحران پر عالمی کانفرنس19 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||