مالیاتی بحران پر عالمی کانفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ مالیاتی بحران پر عالمی کانفرنس بلائیں گے تاکہ مستقبل میں مالیاتی بحرانوں سے بچا جا سکے۔ امریکی صدر نے کیمپ ڈیوڈ میں یورپی فرانس اور یورپی یونین کے موجودہ صدر نکولس سرکوزی سے ملاقات سے پہلے کہا کہ عالمی مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے ضروری کہ فریق ملک کی کام کریں۔ امریکی صدر نے واضح کیاکہ مالیاتی نظام کی نگرانی کو بہتر بنانے کے کسی ایسے نظام کی اجازت نہیں دی جائے جو کھلی منڈی کے نظریے کے منافی ہو۔صدر بش نے کہا کہ مستقبل میں مالیاتی بحرانوں سے بچنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی ضروری ہے لیکن ’جمہوری سرمایہ داری‘ کے نظام کو خراب نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔ مالیاتی بحران پر عالمی کانفرنس نومبر میں صدارتی انتخابات کے بعد منعقد کی جائے گی۔ یورپی یونین کے موجودہ صدر نکولس سرکوزی نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اکیسویں صدی کے مالیاتی نظام کو بیسویں صدی کے فرسودہ نظام سے نہ چلایا اور وقت کے تقاضوں کو ذہن میں رکھا جائے۔ صدر سرکوزی نے کہا کہ یورپی یونین سمجھتی ہے کہ عالمی مالیاتی بحران نے ایک موقع دیا ہے کہ سرمایہ داری نظام کی ’قابل نفرت‘ طریقوں کو بدل دیا جائے۔ انہوں نے سرمایہ داری فنڈ، ٹیکس فری زون، اور مالیاتی اداروں کو اصول اور ضابطوں کے تحت چلایا جائے۔ یورپین کمشن کے صدر مینوئل بورسو نے کہا کہ دنیا کو نئے ’مالیاتی آرڈر‘ کی ضرورت ہے یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ عالمی کانفرنس میں ایک ایسے نظام کی طرف پیش قدمی کی جائے جس کےتحت مالیاتی اداروں کے ریگولیٹری نظام کو بہتر بنایا جائے۔ | اسی بارے میں معاشی بحران،یورپی رہنماؤں کا اجلاس04 October, 2008 | آس پاس امریکہ: 700ارب کا بیل آؤٹ بل منظور03 October, 2008 | آس پاس معاشی مشکلات کا سامنا رہےگا:بش04 October, 2008 | آس پاس اہم یورپی بینک دیوالیہ کے قریب05 October, 2008 | آس پاس برطانیہ: بینکوں کے لیے امدادی پیکج08 October, 2008 | آس پاس حصص بازاروں میں مندی جاری09 October, 2008 | آس پاس جارحانہ اقدامات کر رہے ہیں: بش10 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||