BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2008, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ: بینکوں کے لیے امدادی پیکج
گورڈن براؤن
برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا یہ قدم برطانیہ کے بینکوں کو مضبوط کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
برطانیہ کی حکومت نے اپنے بینکنگ نظام کے لیے 88 ارب ڈالر یعنی پچاس ارب پاؤنڈز کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

شروع میں یہ رقم برطانیہ کے آٹھ بڑے اور اہم بینکوں اور نیشن وائڈ بلڈنگ سوسائٹی کی تعمیرات کے لیے فراہم کی جائے گی۔ اس کے بدلے میں انہیں ’پریفرنس شیئر‘ دیے جائیں گے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا’ یہ قدم برطانیہ کے بینکوں کو مضبوط کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔‘

بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں نصف فیصد کی کمی کا اعلان کیا۔ اس کمی کے ساتھ برطانیہ میں سود کی شرح پانچ فیصد سےگھٹ کر ساڑھے چار فیصد رہ گئی ہے۔

لیکن اس کے باوجود لندن میں ایف ٹی ایس آئی 100 پانچ فیصد گر گیا۔ حالانکہ ایچ بی او ایس کے شیئرز میں 26 فیصد اضافہ درج کیا گیا لیکن بارکلیز 11 فیصد اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں 13 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔

پلان کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:

بینکوں کو اپنی اصل رقم کم از کم 25 ارب پاؤنڈ تک بڑھانا ہوگی اور یہ رقم حاصل کرنے کے لیے وہ حکومت سے ادھار بھی لے سکتے ہیں۔

25 ارب پاؤنڈز کی اضافی رقم پریفرنس شیئرز کے تبادلے پر فراہم کی جائے گی۔

بینک آف انگلینڈ 100 ارب پاؤنڈز سے بڑھا کر 200 ارب پاؤنڈز تک کے قرضے تھوڑی مدت کے لیے دے سکے گا۔

قرض کی گارنٹی کے لیے 250 ارب پاؤنڈز کمرشل ریٹ پر فراہم کیے جائيں گے تاکہ بینک ایک دوسرے کو زیادہ رقم دے سکیں۔

اس سکیم میں شامل ہونے کے لیے بینکوں کو ایک ایف ایس اے معاہدے پر دستخط کرنے ہوں گے۔

حالیہ بحران بینکوں کی جانب سے ایک دوسرے کو ادھار فراہم نہ کیے جانے کے سبب ہی پیدا ہوا ہے۔ اس لیے حکومت کو لگتا ہے کہ اگر ان قرضوں کی گارنٹی فراہم کر دی جائے تو بینکوں کے لیے ایک دوسرے کو ادھار کے طور پر رقم فراہم کرنا آسان ہو جائے گا۔

ایبے، بارکلیز، ایج بی او ایس، ایچ ایس بی سی اور لائیڈز ٹی ایس بی ، نیشن وائڈ بلڈنگ سوسائٹی، رائل بینک آف سکاٹ لینڈ اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ جیسے بینکوں نے اس سکیم میں شامل ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خزانے کے محکمے کا کہنا ہے کہ دیگر بینکوں کو اس میں شامل ہونے کے لیے باقا‏عدہ طور پر عرضی دینی ہوگی۔

جن شیئرز کو خریدہ جائے گا وہ کمپنیاں منافع دینے کے بجائے ایک مقررہ سود ادا کریں گے ۔ یہ رقم شیئر ہولڈرز کو پہلے ہی فراہم کر دی جائے گی۔

اس معاہدے کا بینکوں نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔ ایچ ایس بی او کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے’حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا قدم برطانیہ کے بینکوں کے لیے مستحکم اور یقینی صورت حال لائے گا۔‘

ایوان نمائندگانبحران ٹل جائےگا
امریکہ: سات سو ارب کا بیل آؤٹ بل منظور
دائرہ پھیل رہا ہے
عالمی بحران، دنیا بھر کی شیئر مارکٹس میں مندی
عالمی مالیاتی بحران
معیشت کو ایسے جھٹکے عرصے سے نہیں لگے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد