BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 October, 2008, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
معاشی بحران،یورپی رہنماؤں کا اجلاس
فرانس کے صدر نکولس سرکوزی
یورپین ممالک کے لیے بیل آؤٹ منصوبے کے لیے فرانس کی حمایت ہے
عالمی معاشی بحران پر بات چیت کے لیے یورپی رہنما سنیچر کو پیرس میں ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

اس اجلاس میں برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن کے علاوہ فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنما حصہ لیں گے۔

امید ہے کہ اجلاس میں شریک رہنما یورپی کمیشن کے صدر اور یورپی مرکزی بینک کے سربراہ سے بھی ملاقات کریں گے۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ اجلاس میں شریک ممالک برطانیہ کے لیے ایک’بیل آؤٹ پیکج‘ پر متفق ہو جائیں گے لیکن اب یورپی رہنماؤں کے درمیان اس طرح کے کسی بھی منصوبے کو لے کر اختلافات ہیں۔

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں جو بات چیت ہوگی اس سے اس برس کے آخر میں ہونے والی عالمی اجلاس کے لیے بھی بحث کے راستے کھلیں گے۔

یورپین ممالک میں اس بات کو لے کر اختلافات ہیں کہ مالیاتی ادارے اور بحران کا شکار بینکوں اور بازارِ حصص کو بچانے کے لیے کتنی رقم مخصوص کی جائے اور اس رقم کی حد کیا ہوگی۔

 یورپین ممالک میں اس بات کو لیکر اختلافات ہیں کہ مالیاتی ادارے اور بحران کا شکار بینکوں اور بازار کو بچانے کے لیے کتنی رقم مخصوص کی جائے اور اس رقم کی حد کیا ہوگی۔

یورپی لیڈرز کی کوشش رہے گی کہ وہ آئندہ ہفتے جی ایٹ ممالک کے اقتصادي وزراء اور واشنگٹن میں سینٹرل بینک کے گورنرز کی میٹنگ سے پہلے کوئی عام رائے بنا سکیں۔

فی الوقت ڈچ حکومت ہی اس بات کی حمایت کر رہی ہے کہ یورپین یونین کے 27ممالک معاشی اداروں اور بحران کا شکار بینکوں کی مدد کے لیے 250 بلین پاؤنڈ کی مدد فراہم کریں اور اس امدادی فنڈ کا استعمال اسی صورت میں کیا جائے جب کسی بھی ملک کے بینک یا معاشی ادارے سنجیدہ معاشی بحران کا شکار ہوں۔

بی بی سی کے نامہ نگار السٹر سینفورڈ کا کہنا کہ فرانس یورپین ممالک کو اس بات پر متفق کرنا چاہتا ہے کہ جب بھی یورپین بینکوں کو بچانے کی ضرورت ہو یہ ممالک مداخلت کریں اور معاشی مدد فراہم کریں۔ لیکن اس معاملے پر کوئی عام رائے بننا مشکل ہی لگتا ہے کہ کیونکہ جرمنی پہلے ہی بیل آؤٹ منصوبے پر اپنے اختلافات کا اظہار کر چکا ہے اور برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن بھی اس منصوبے کے زیادہ حق میں نہیں دکھائی دیتے ہیں۔

یورپین پارلیمنٹ کے صدر ہانس جرٹ پوٹرنگ نے اس اجلاس پر نکتہ چینی کی ہےاور ان کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں شریک ممالک کو پورے یورپ کے لیے فیصلہ لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ایوان نمائندگانبحران ٹل جائےگا
امریکہ: سات سو ارب کا بیل آؤٹ بل منظور
دائرہ پھیل رہا ہے
عالمی بحران، دنیا بھر کی شیئر مارکٹس میں مندی
عالمی مالیاتی بحران
معیشت کو ایسے جھٹکے عرصے سے نہیں لگے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد