BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2008, 23:10 GMT 04:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مالیاتی بحران ایک سونامی ہے‘
سٹاک
’مرکزی بینکوں اور حکومتوں کو وہ اقدامات کرنے پڑے ہیں جن کی پہلے کبھی ضرورت نہ تھی‘
امریکہ کے مرکزی بینک یو ایس فیڈریل ریزرو کے سابق سربراہ ایلن گرین سپین نے عالمی مالیاتی بحران کو ’صدی میں ایک مرتبہ آنے والی سونامی‘ قرار دیا ہے۔

واشنگٹن میں کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی مالی بحران کے اثرات اُن کی توقعات سے کہیں زیادہ وسیع نکلے ہیں۔

مسٹر گرین سپین کا کہنا تھا: ’ہم اس وقت صدی میں ایک مرتبہ آنے والی ایک مالیاتی سنامی کے درمیان کھڑے ہیں۔ مرکزی بینکوں اور حکومتوں کو وہ اقدامات کرنے پڑے ہیں جن کی پہلے کبھی ضرورت نہ تھی‘۔

عالمی مالیاتی بحران کتنا گہرا ہو گیا ہےاس کا اندازہ اس امرسے لگایا جا سکتا ہے کہ جمعرات کو مختلف ممالک نے اپنی کرنسی کو مستحکم کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔



روس نے اپنی کرنسی روبل کو استحکام دینے کے لیے سرکاری خزانے سے پندرہ ارب ڈالر نکالے ہیں جبکہ پاکستان، یوکرین اور بیلاروس نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مدد کی درخواست کی ہے ۔ جنوبی کوریا اور ارجنٹینا بھی اب ہنگامی اقدامات کررہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق وہ ممالک جو اپنی استعداد سے زیادہ رقم خرچ کر رہے تھے وہاں اب سرمایہ ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ یا تو اِن ممالک کا زیادہ انحصار بیرونی ممالک سے حاصل کئے گئے قرضوں پر تھا یا پھر یہ ممالک ضرورت کی زیادہ تر اشیا باہر سے منگواتے تھے۔

’ان ممالک کو قرضہ فراہم کرنے والے ادارے اب اپنی رقم واپس لینا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک کی کرنسی کی قدر میں کمی آتی جا رہی ہے اور یہاں کے بینکوں کا نظام کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے۔ لہذا اب ان ممالک کو مزید مالی مدد کی ضرورت ہوگی‘۔

اس وقت جو ممالک بین لاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے مالی مدد کے منتظر ہیں اُن میں آئس لینڈ، ہنگری ، پاکستان ، یوکرین اور بیلاروس شامل ہیں۔

ان ممالک کے علاوہ جنوبی افریقہ، ارجنٹینا اور جنوبی کوریا میں بھی سرمایے کی کمی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے اب ان ممالک میں بیرونی ممالک سے تجارتی بنیادوں پر خریداری کی سکت ختم ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے عالمی اقتصادی بحران میں شدت پیدا ہورہی ہے۔

عالمی مالی بحران کا اثر اب کاروں کی صنعت تک بھی پہنچ گیا ہے اور امریکی کمپنی کرائسلر نے ملازمتوں میں مزید چھ فیصدکمی کرنے کا اعلان کیا ہے جو تقریباً دو ہزار آسامیاں بنتی ہیں۔

کاروں کی فروخت میں کمی کی وجہ سے کرائسلر نے اپنی ٹولیڈو فیکٹری پہلے اعلان کی گئی تاریخ سے ایک سال پہلے ہی بند کردی ہے جبکہ دیگر فیکٹریوں کی شفٹوں میں کمی کردی گئی ہے۔ ادھر مغربی یورپ اور کوریا میں بھی کاروں کی صنعت نے مستقبل میں اپنے نفع میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

ادھر روس کے صدر دیمیتری میدادیو نے کہا ہے کہ روس پر شاید اِس عالمی بحران کا اثر اتنا زیادہ نہ ہو۔ اُن کی سرکاری ویب سائیٹ پر شائع ہونے والے بلاگ میں صدر میدادیو نے کہا ہے کہ روس بغیر کسی بڑے نقصان کے اِس حالیہ معاشی صورتحال سے بچ سکتا ہے۔

مالی امداد کے منتظر ممالک
اس وقت جو ممالک بین لاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے مالی مدد کے منتظر ہیں اُن میں آئس لینڈ، ہنگری ، پاکستان ، یوکرین اور بیلاروس شامل ہیں

گزشتہ ہفتے روس نے اپنی کرنسی روبل کو مستحکم کرنے کے لئے خزانے سے پندرا ارب ڈالر نکال لیے تھے۔ اس سال مئی میں اپنی بلندی پر پہونچنے کے بعد اب روسی مالی منڈیاں ستر فیصد نیچے گرگئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد