ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
 | | | عالمی منڈی میں سست روی کا اثر روپیہ پر بھی پڑا ہے |
ہندوستانی حصص بازار سے غیرملکی سرمایہ کاروں کے متواتر سرمایہ نکالنے کا ایک برا اثر روپیہ پر پڑا ہے۔ جمعہ کے روز بازار کھلنے پر روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر 50.15 روپیہ ہوگیا جو کہ اب تک کہ امریکی ڈالر کی سب سے زیادہ قیمت بتائی جارہی ہے۔ دریں اثناء بمبئے سٹاک ایکسچینج جب جمعہ کی صبح 9506.70 پر کھلا تو گزشتہ روز کے مقابلے 663.20 نیچے گر چکا تھا۔ حصص بازار پر امریکی بازار کی مندی کا اثر صاف نظر آرہا تھا۔ ممبئی حصص بازار کے علاوہ ایشیائی بازار بھی لگاتار مندی کی جانب جا رہا ہے۔ جمعرات کے روز ہندوستان وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بازار میں پھیلی ہوئی بےچینی کو کم کرنے کے لیے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اسٹاک اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا یعنی سیبی غیرملکی سرمایہ کاروں کو بازار سے سرمایہ نکالنے پر کچھ شرائط عائد کرے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد جمعرات کے دوپہر تک بازار کچھ سنبھلا تھا لیکن اس کے بعد ایک بار پھر بازار مسلسل گرنے لگا تھا کیونکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔ گزشتہ روز کی طرح آج یعنی جمعہ کو بھی ٹاٹا سٹیل کے حصص لگاتار نیچے کی طرف گر رہے ہیں۔ ہنڈالکو کو آج سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔اس کے حصص میں دس فیصد کی کمی ہوئی ہے جبکہ ٹاٹا سٹیل اور ایچ ڈی ایف سی بینک پانچ فیصد خسارے میں ہیں۔ بھارتی ایئر ٹیل، او این جی سی اور ٹاٹا موٹرز کو تین فیصد سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ اس وقت بازار کی نظریں ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ریزور بینک آف انڈیا بازار کو سنبھالنے کے لیے جمعہ کے روز کچھ مراعات کا اعلان کرے گی جس سے بازار کچھ سنبھل سکے۔ لیکن بازار کےماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے بازار پر کچھ زیادہ اثر نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اس عالمی مالیاتی بحران کا اثر ملک کے بازار پر اس وقت تک رہے گا جب تک غیرملکی سرمایہ کار یہاں سے اپنا سرمایہ نکالتے رہیں گے اور یہ تب تک ہوگا جب تک امریکی بازار میں کچھ بہتری نہیں آجاتی۔ |