انڈیا کی معیشت کا روشن مستقبل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حالیہ دنوں میں تیل اور کھانے کی اشیاء کی کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ایک قسم کا اقتصادی بحران پیدا کر دیا ہے۔ بھلے ہی ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح گزشتہ برس 9 فیصد رہی ہو لیکن اب اس قسم کے اشارے مل رہے ہیں کہ آنے والے دنوں ميں اس میں کمی دیکھی جائے گی۔ حالیہ دنوں ميں افراطِ زر ميں ہو رہا اضافہ نہ صرف گزشتہ آٹھ برس میں سب سے زيادہ ہے بلکہ جس تناسب سے افراطِ زر کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے وہ بھی امید سے کہیں زیادہ ہے۔ نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ آئندہ چند مہینوں ميں افراطِ زر کی شرح میں ہو رہا اضافہ اقتصادی ترقی کی شرح میں ہو رہے اضافے سے کہیں اوپر چلا جائے گا ۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایسا کافی عرصے سے نہيں ہوا ہے اور اس سے لوگوں کے ذہن میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کچھ عرصےمیں حالات صحیح ہو جائيں گے یا پھر گزشتہ چار پانچ برس میں تیزی سے ترقی درج کرنے والی ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا یہ آخری پڑاؤ ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کس طرح سے آگے بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے اس کے رجحانات کی پیش گوئی کرنا ہمیشہ ایک مشکل عمل ہوتا ہے لیکن اگر ہم اعدادو شمار سے آگے کی بات کریں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کی معاشی ترقی کا مستقبل اچھا نظر آ رہا ہے۔ ملک کی معاشی ترقی قائم رکھنے اور اسے مزید آگے بڑھانے کے لیے حکومت کو بعض موثر پالیسیاں بنانی پڑيں گی اور میں اس امید کے ساتھ یہ پیش گوئی کرتا ہوں کہ دو ہزار نو تک کوئی بھی حکومت آئے وہ ایسی پالیسیاں لائے گی۔
میرا تجزیہ دو نکات پر مبنی ہے۔ پہلا یہ کہ یہ بات صحیح ہے کہ ہندوستان کی پالیسیوں میں کافی خامیاں ہیں لیکن حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا براہ راست رشتہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہے۔ آج کی صورت حال کا مقابلہ 1997 سے 1999 اور 19972 سے 1974 سے کیا جاتا سکتا ہے اس وقت بھی عالمی سطح پر مہنگائی کے سبب ہندوستان میں بھی قیمتیں بڑھی تھیں۔ خاص طور سے 1974 میں ہندوستان میں مہنگائی اس لیے بڑھی تھی کیونکہ عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت قیمتیں تیزی سے بڑھیں ترقی کم ہوئی اور ملک کی افراطِ زر 20 فیصد تک پہنچ گيا جو آزاد ہندوستان میں اب تک افراط زر کی سب سے اونچی شرح ہے۔ 1997 - 99 میں ہونے والے اقتصادی بحران کی وجہ مشرقی ایشاء تھی جس کا اثر ہندوستان کی معیشت پر بھی پڑا تھا اور اس وقت ملک کی ترقی کی شرح مسلسل تین سال تک سات فیصد رہی اور اس سے پہلے 1997 میں یہ شرح 4.5 فیصد ہو گئی تھی۔ لیکن یہ اس وقت کی بات تھی جب ہندوستان کی معیشت ’ کھلی‘ ہوئی نہیں تھی۔ لیکن اب ہندوستان پر عالمی بازار میں مہنگائی کا اثر اس لیے پڑے گا کیونکہ اب ملک کی کھلی معیشت ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نکالنا غلط ہوگا کہ ہندوستان اپنی معیشت سے متعلق پالیسیوں کو’ بند‘ کر دے۔
انڈیا میں 1994 کے بعد جو زبردست معاشی ترقی ہوئی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ’اؤپن پالیسیاں‘ رہیں۔ وقتاً فوقتاً مہنگائی کی مار جھیلنے کے ڈر سے ہندوستان اگر اپنی اقتصادی پالسیوں کو بند کر لیتا ہے تو اسے ہمیشہ ایک غریب ملک کے طور پر رہنا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں ہندوستان کی معشیت ترقی کرے گی اس پیش گوئی کی میری دوسری وجہ یہ ہے کہ آج ہندوستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پوری دنیا میں سب سے زيادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ ہندوستان اپنی کمائی کا 35 فیصد بچاتا ہے اور پھر سرمایہ کاری کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی حالیہ تصویر ہے اور اس کا مقابلہ مشرقی ایشاء کے کسی بھی تیزی سے ترقی کر رہے ملک سے کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستان ميں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ایسی معاشی صورت حال میں زندگی گزارتے ہیں جن کے لیے بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے، اس صورحال کو یقینی نہ بنے اس کے لیے حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہوں کے جو صرف غریبوں کو تحفظ فراہم کر سکیں۔ |
اسی بارے میں انڈیا: پیٹرولیم کی قیمت میں اضافہ04 June, 2008 | انڈیا انڈین معیشت کو ایڈز سے خطرہ20 July, 2006 | انڈیا انڈیا: اقتصادی ترقی کے نئے تقاضے 27 February, 2006 | انڈیا بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا من موہن سنگھ حکومت کے سو دن29 August, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||