BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 October, 2008, 14:26 GMT 19:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی’ریئل سٹیٹ‘ بحران کا نشانہ

ممبئی کی ایک بلند عمارت(فائل فوٹو)
کئی بینکوں نے اب تعمیراتی کمپنیوں کو قرض دینے سے انکار کر دیا ہے
امریکہ کے مالیاتی بحران نے جہاں قریباً پوری دنیا کی کاروباری مارکیٹوں کو متاثر کیا ہے وہیں ہندستان میں’ریئل سٹیٹ‘ کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے ہندستان میں ریئل سٹیٹ بزنس میں بہت تیزی آئی تھی کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حصص بازار میں چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

ہندوستان کے بڑے شہروں میں زمینوں کی قیمتیں آسمان چھونے لگی تھیں لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے اور زمینوں کے دام تیس سے چالیس فیصد کم ہوگئے ہیں۔

تعمیراتی کمپنی گلوبل پراپرٹی کی مشاورتی فرم ’نائٹ فرینک‘ کے چیئرمین پرنئے وکیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ’غیر ملکی سرمایہ کاروں نے چار بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی اور آئندہ اٹھارہ مہینوں کے درمیان مزید بارہ سے چودہ بلین ڈالر ہندستان کے بازار میں آنے والے تھے لیکن اب ان کے آنے کی امید نہیں ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے بازار سے کئی بلین ڈالر نکال لیے ہیں جن کی وجہ سے بازار بری طرح گر رہا ہے‘۔

ہندوستان میں دیوالیہ ہونے والے امریکی بینک لیہمن برادرز کے ریئل سٹیٹ پارٹنرز نے کافی سرمایہ کاری کی تھی اور ان کے کئی منصوبے زیرِ تعمیر تھے۔

انہوں نے یونی ٹیک لمیٹیڈ کو ممبئی کے سانتا کروز علاقے میں ترقیاتی و تعمیراتی منصوبوں کے لیے سات سو چالیس کروڑ روپے دیے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اشوک پیرامل ریئل سٹیٹ کمپنی کے پانچ سو چھہتر کروڑ روپے کے منصوبے کے لیے بھی معاہدہ کیا تھا لیکن بینک کا دیوالیہ نکلنے کے بعد اب یہ سارے منصوبے ختم ہوگئے۔

 نریمان پوائنٹ جیسے تجارتی علاقے میں ایجنٹ دو سو سے ڈھائی سو روپیہ کے حساب سے کرایہ پر جگہ دینے کے لیے تیار ہیں اور یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ رئیل سٹیٹ بازار زبردست بحران سے گزر رہا ہے، لوگوں کے پاس نقدی کی کمی بھی ہے اور یہ ایک خطرناک سیچویشن ہے۔
یشونت دلال

تعمیراتی کمپنیوں کی حالت بھی بہت خراب ہے۔ ممبئی اور اس کے مضافات میں ہر سرکردہ تعمیراتی کمپنی کے چھ سے آٹھ منصوبے چل رہے ہیں لیکن پنجاب نیشنل بینک، بینک آف انڈیا سمیت کئی بینکوں نے اب تعمیراتی کمپنیوں کو قرض دینے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اب نجی سرمایہ کاروں سے تیس سے چالیس فیصد کی شرح سود پر قرض لینے پر مجبور ہیں۔

سنگھوی بلڈرز کے سیلیش سنگھوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کئی منصوبے بند کر دیے ہیں کیونکہ بینکوں نے قرض کی سہولت دینے سے انکار کر دیا۔ سنگھوی کے مطابق انہوں نے اپنے فلیٹوں کے دام بھی کم کر دیے ہیں تاکہ گاہک انہیں خرید لیں اور اس سرمایہ سے وہ اپنے دوسرے پروجیکٹ کو جاری رکھ سکیں۔سنگھوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب کٹوتی بھی شروع کر دی ہے تاکہ آئندہ آنے والے دنوں میں وہ بازار میں کھڑے رہنے کے قابل رہ سکیں۔

تعمیراتی کمپنیوں کو یقین ہے کہ دیوالی کے بعد بازار کچھ سنبھلے گا لیکن نائٹ فرینک کے چیئرمین وکیل سمجھتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ ان کے مطابق ابھی بازار میں سرمایہ کی کمی میں اضافہ ہو گا اور زمینوں کے دام مزید کم ہوں گے۔

ممبئی کے مضافات میں میرا روڈ کے ایک مقامی سٹیٹ ایجنٹ ناصر شیخ کے مطابق دو ماہ قبل یہاں زمین کے دام تین ہزار پانچ سو اور تین ہزار سات سو مربع فٹ تھے لیکن اب بازار کے گرنے کے بعد یہ کم ہو کر تین ہزار مربع فٹ ہو چکے ہیں۔شیخ کے مطابق انہوں نے چودہ لاکھ روپے مالیت کا فلیٹ گیارہ لاکھ روپے میں فروخت کیا ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھارت بازار سے اربوں ڈالر نکال لیے ہیں

داموں کے گرنے کی وجہ سے بہت سے بلڈرز پریشان ہیں۔ تاہم گوری کنسٹرکشن کے مالک جمیل جہانگیر جیسے کئی بلڈرز ہیں جو کم قیمت میں اپنا فلیٹ فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ داموں کی کمی کا ذرائع ابلاغ نے ہوا کھڑا کر دیا ہے اور لوگ دیوالی کے بعد فلیٹس خریدنے آئیں گے۔

تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسا مشکل ہے، ہاں اگر بلڈرز اپنے فلیٹس کے دام کم کرتے ہیں تو شاید خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہو اور بلڈرز کے لیے بھی نقدی کی فراہمی آسان ہو سکتی ہے۔

جنوبی ممبئی کے پوش تجارتی علاقے اور ممبئی کے مضافات میں باندرہ کرلا کمپلیکس میں دفاتر کے کرایہ میں بھی اسی لیے کمی واقع ہوئی ہے۔ ورلی میں آج سے محض چار ماہ قبل غیر ملکی بینک نے سات سو پچاس مربع فٹ کے حساب سے کرایہ منظور کیا تھا لیکن آج اسی جگہ کا کرایہ تین سو روپیہ مربع فٹ ہو چکا ہے۔

ریئل سٹیٹ ایسوسی ایشن کے صدر یشونت دلال کے مطابق’نریمان پوائنٹ جیسے تجارتی علاقے میں ایجنٹ دو سو سے ڈھائی سو روپیہ کے حساب سے کرایہ پر جگہ دینے کے لیے تیار ہیں اور یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ریئل سٹیٹ بازار زبردست بحران سے گزر رہا ہے، لوگوں کے پاس نقدی کی کمی بھی ہے اور یہ ایک خطرناک سچویشن ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد