BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 July, 2008, 07:28 GMT 12:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمان کے بعد اب سٹاک میں تیزی

ممبئی بازار حصص کے بروکر(فائل فوٹو)
چند مہینوں سے ممبئي بازار حصص ميں مسلسل مندی دیکھی جارہی تھی
ہندوستان میں منموہن سنگھ کی حکومت کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اثر ممبئی بازار حصص پر بھی نظر آرہا ہے۔ بدھ کی صبح جب بازار کھلا تو ممبئی سٹاک ایکسچینج ابتدائی کاروبار میں 669 پوائنٹ کے اضافے کے ساتھ 45۔14773 پر پہنچ گیا۔

نیشنل سٹاک ایکسچینج آف انڈيا یعنی نفٹی بھی ایک سو اکیاسی پوائنٹ کی تیزی کے ساتھ 4421.45 پر پہنچ گیا۔

ملک میں حکومت کے استحکام کے ساتھ ہی اس کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

بازار کے ماہرین کے خيال ميں حصص میں گزشتہ روز سے ہی اچھال دیکھا جا رہا تھا کیونکہ بروکروں کو حکومت کی کامیابی کے امکانات روشن نظر آ رہے تھے۔

 ممبئی کے حصص بازار میں تیس کمپنیاں رجسٹر ہیں اور سب نے منافع کمایا۔ بینکوں، ریئل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کے شعبوں کے حصص میں چھ سے آٹھ فیصد کا اضافہ ہوا ہے

ممبئی کے بازار حصص میں تیس کمپنیاں رجسٹر ہیں اور سب نے آج منافع کمایا۔ بینکوں، ریئل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کے شعبوں کے حصص میں چھ سے آٹھ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

سب سے زیادہ منافع بھیل کمپنی کو ہوا ہے اس نے نو فیصد کا منافع کمایا جبکہ بینکوں کے زمرے میں آئی سی آئی سی آئی بینک منافع میں سب سے آگے ہے۔اس کے بعد ریلائنس انفراسٹرکچر، ایچ ڈی ایف سی بینک اور ڈی ایل ایف کو ہوا ہے۔ جبکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے حصص بازار میں ان کمپنیوں کے حصص لگاتار گرتے جا رہے تھے۔

بازار کے تجزیہ نگار اسے حکومت کی غیر یقینی صورتحال سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے تھے حالانکہ حصص بازار میں حصص کی قیمتوں میں مندی کی وجوہات میں تیل کی قیمتوں اور مہنگائی میں بتدریج اضافہ اور امریکی اقتصادی حالت بھی شامل ہیں۔

حصص بازار کے سرمایہ کار ویرل شاہ کے مطابق حکومت کی اتحادی جماعت بایاں محاذ کی حکومت سے حمایت لینے کے بعد سے بازار میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔لوگوں نے سرمایہ لگانہ بند کر دیا تھا، اس کے علاوہ جوہری معاہدہ پر رسہ کشی کے سبب غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے بازار سے اپنا سرمایہ نکال لیا تھا، لیکن اب حکومت کے استحکام کے بعد فارین انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز یعنی ایف آئی آئی کی ممبئی سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد