ریلائنس پاور مندی روکنے میں ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے سب سے بڑے انیشیل پبلک آفر یعنی ریلائنس پاور کے ابتدائی کی قیمت میں تیرہ فیصد کی گراوٹ درج کی گئي ہے۔ادھر ممبئی اسٹاک ایکسچینج کے سینسیکس انڈیکس میں بھی 700 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی ہے۔ پیر کو جب آئی پی او کے شیئر حصص بازار میں فروخت ہونے کے لیے پہلی بار کھلے تو اپنی اصل قیمت چار سو پچاس روپے سے گر کر تین سو پچاسی تک پہنچ گئے۔ انیل دھیرو بھائی امبانی کی کمپنی ریلائنس پاور کے حصص کے کمزور آغاز نے ان کروڑوں سرمایہ کاروں میں مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے جنہیں یقین تھا کہ بازار حصص کو ریلائنس پاور کے شیئر کچھ حد تک سنبھال لیں گے۔ ریلائنس پاور کے حصص نیشنل سٹاک ایکسچنج میں پانچ سو تیس اور بی ایس ای میں پانچ سو پچیس کے ساتھ بازار میں اترے تھے۔لیکن ٹریڈنگ کے ایک گھنٹے کے اندر ان کی قیمت گرنے لگی۔ ریلائینس پاور کو سات اعشاریہ پانچ فیصد کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پیر کی صبح جب بی ایس ای نے اپنا کاروبار 17,428شروع کیا لیکن ایک گھنٹہ میں بازار ایک سو چوراسی پوائنٹ گر کر 17,078.98پر پہنچ گیا۔ بازار دن میں دو مرتبہ لڑھکااور ایک وقت سات سو پوائنٹس نیچے چلا گيا۔ لیکن پھر کچھ حد تک سنبھل بھی گیا۔ گزشتہ مہینے ریلائنس پاور نے جب بازار میں اترنے کا اعلان کیا تھا تو اپنے ایک حصص کی قمیت چار سو پچاس روپیہ رکھی تھی۔خودرہ خریدار کو بیس روپیہ کا فائدہ دیا اور ایک حصص کی قیمت ان کے لیے چار سو تیس روپیہ رکھی۔ کمپنی کے ایشیو گیارہ ہزار پانچ سو ساٹھ کروڑ روپیہ کے تھے لیکن لوگوں نے بڑھ چڑھ کو بولی لگائی تھی اور ستر فیصد زیادہ اس کی قیمت کےحساب سے اسے سات لاکھ پچاس ہزار کروڑ روپے کا بنایا تھا۔پچاس لاکھ لوگوں نے ریلائنس پاور کے حصص خریدنے کے لیے درخواست دی تھی۔
ریلائنس پاور کے حصص خریدنے والے ویرل شاہ بہت مایوس ہیں۔انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ گرتے بازار کے باوجود انہوں نے ریلائنس کے ساٹھ شیئرز خریدنے کے لیے اپنا سارا سرمایہ اس میں لگا دیا تھا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ریلائنس کے حصص بازار میں منافع کمائیں گے لیکن اب وہ پچھتا رہے ہیں کیونکہ بازار کے تجزیہ نگاروں کے مطابق بازار ابھی مزید گرے گا۔ گرتے بازار کی وجہ سے بازار میں آنے والی کئی اور کمپنیوں نے اپنے شیئر واپس لے لیے ہیں۔ان میں نامور ووک ہارڈ ہسپتال اور دوا ساز کمپنیوں کے علاوہ ایم آر کنسٹرکشن کمپنی سمیت کئی بڑی کمپنیاں اب بازار میں آنا نہیں چاہتی ہیں۔ اس وجہ سے ان کمپنیوں کو کروڑوں کا خسارہ بھی ہوا ہے لیکن ان کمپنیوں نےاپنا دامن بچانا ہی مناسب سمجھا۔ حصص بازار کے تجزیہ نگار شاہ بابو لال کے مطابق امریکہ کی کساد بازاری نے ایشیائی ہی نہیں بلکہ یورپی بازار کو بھی خاصا نقصان پہنچایا ہے۔بابو لال کے مطابق ابھی بازار اور نیچے جائے گا۔ ان کا خیال ہےکہ بی ایس ای سترہ ہزار سے نیچے گرے گا اور نفٹی پانچ ہزار سے بھی کم پر ہے جو بازار کے لیے بُرا ہے۔ |
اسی بارے میں ریلائنس کے شیئر منٹوں میں فروخت 15 January, 2008 | انڈیا بمبئی بازارِ حصص میں استحکام23 January, 2008 | انڈیا ’اس بازار میں ہمیشہ دیکھ کر کھیلنا چاہیے‘22 January, 2008 | انڈیا ممبئی بازارِ حصص میں مندی جاری22 January, 2008 | انڈیا ریلائنس نے لطیفے پر معافی مانگ لی 04 December, 2007 | انڈیا ایس ایم ایس اور امبانی پر مقدمہ 04 December, 2007 | انڈیا ممبئی بازارِ حصص میں تیزی08 January, 2008 | انڈیا ’شیئر بازار میں، دہشتگردی کا پیسہ‘04 December, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||