’اس بازار میں ہمیشہ دیکھ کر کھیلنا چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بمبئی حصص بازار میں گزشتہ چھ دنوں سے مندی جاری ہے اور امریکہ میں ممکنہ اقتصادی کساد بازاری کے نتیجے میں ہندوستان ہی نہیں ایشیائی حصص بازاروں میں ریکارڈ توڑ مندی نے سرمایہ کاروں میں گھبراہٹ و بے چینی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان چھ دنوں میں اکہتر لاکھ کروڑ روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ ممبئی کے ایک نامور بینک کے مینجر نیویل کوارانہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ’دراصل یہاں کسی بھی خریدار کو حصص خریدنے سے روکا جا رہا ہے۔ ملکی سرمایہ کاروں کے بجائے غیر ملکی سرمایہ کارں کو حصص بیچے جا رہے ہیں‘۔ نیویل کا کہنا ہے کہ’وہ نقد پیسہ لے کر حصص خریدنے کے لیے کھڑے ہیں لیکن ان کے ساتھ سینکڑوں افراد کو یہ کہہ کر واپس کر دیا گیا کہ اگر حصص بیچنا ہے تو آؤ ورنہ خریدنے کے لیے بازار بند ہو چکا ہے۔اس لیے چھوٹے سرمایہ کاروں نے یہاں احتجاج بھی کیا تھا‘۔ نیویل کے مطابق’اس وقت ریلائنس کے آر این آر ایل کا حصص محض پچھتر روپے کا ہو چکا ہے اور خریداری کے لیے یہی صحیح وقت ہے لیکن ہم سب کو روکا جا رہا ہے اور ہمارے بروکر بھی ہماری مدد نہیں کر رہے ہیں‘۔ پورے بازار میں افراتفری ہے۔ دن بھر بازار کبھی پانچ پوائنٹ گرا تو کبھی سنبھل گیا لیکن سب سے زیادہ نقصان کم وقت کے لیے سرمایہ لگانے والوں کا ہوا ہے۔ بازار کے تجزیہ کاروں کے مطابق بازار کے اس برتاؤ کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر اپنا سرمایہ نکال لیا ہے اور دوسرے حصص کے دلالوں نے اپنے گاہکوں کے حصص فروخت کر دیے ہیں۔تیسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت بازار میں دو بڑی کمپنیاں اپنے آئی پی او کے ساتھ آ رہی ہیں اور لوگوں نے اپنے دوسرے حصص بیچ کر اس میں سرمایہ لگانا چاہتیے ہيں۔جس کی وجہ سے بازار سے نقد سرمایہ نکل گیا ہے اور بازار تیزی کے ساتھ گرا۔ جے جی شاہ سکیوریٹیز کے مینجر راجیش شاہ کا کہنا ہے کہ یورپی اور ایشیائی بازاروں میں تین فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے اور اس کا اثر یہاں کے بازار پر بھی پڑا ہے۔ بازار کے ماہر مانتے ہیں کہ حصص خریدنے کا یہی صحیح وقت ہے کیونکہ اچھی اچھی کمپنیوں کے حصص کے دام گر چکے ہیں اور طویل عرصہ کے لیے سرمایہ کاری کرنے کا اس سے اچھا وقت نہیں ہو سکتا ہے۔ ممبئی ہی نہیں ریاست گجرات میں خصوصی طور پر سورت اور راجستھان کے کئی سرمایہ کار بھی اس سے متاثر ہوئے ہيں۔ممبئی کے ایک سرمایہ کار نے اس بحران میں صرف ایک منٹ میں نوے لاکھ روپے کا نقصان اٹھایا ہے۔
شانتی لال جین کی صرافہ بازار میں دکان ہے۔وہ گزشتہ کئی برسوں سے حصص بازار میں سرمایہ کاری کرتے آئے تھے لیکن اس حصص بازار کی مندی نے انہیں بہت نقصان پہنچایاہے۔ جین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ایل این ٹی اور دوسرے حصص میں پیسہ لگایا تھا اور بازار جب گرنے لگا تو انہیں کچھ اندازہ ہوا تھا کہ یہ حالات ٹھیک نہیں ہیں لیکن لالچ کی وجہ سے انہوں نے بازار سے پیسہ نہیں نکالا جس کے نتیجے میں وہ اپنا سارا سرمایہ کھو چکے ہیں۔ ایک کالج طالب علم لوونگ گوتھی دلال سٹریٹ میں صبح سے حاضر رہے اور انہوں نے سپیٹ نامی کمپنی کے دس ہزار حصص خریدے تھے لیکن انہیں اڑتیس ہزار روپیوں کا نقصان ہو چکا ہے اور وہ پریشان ہیں کہ اب کیا کریں۔ بامبے سٹاک ایکسچنج میں تیس کمپنیوں کے حصص ہیں۔ سینسیکس کو ان چھ دنوں میں تیس فیصد کا نقصان ہوا ہے۔ ہر کمپنی خسارے میں چل رہی ہے۔ ریلائنس کمپنیاں جن کے حصص کی قیمت اس وقت بازار میں سب سے زیادہ ہے وہ بھی اس بحران سے بچ نہیں سکے۔ ریلائنس کمیونکیشن کو پندرہ فیصد جبکہ ریلائنس انرجی کو تیرہ فیصد کا خسارہ جھیلنا پڑا ہے۔ تجزیہ نگار پیتامبر آہوجہ کا کہنا ہے کہ’لوگوں کو بازار میں ہمیشہ سنبھل کر کھیلنا چاہیے لیکن لوگوں نے جب بازار کو اکیس ہزار کا نشانہ پار کرتے دیکھا تو سمجھا کہ یہی وہ صحیح جگہ ہے جہاں وہ اپنا سارا سرمایہ لگا سکتے ہیں اور یہی لوگوں سے غلطی ہو گئی‘۔ آہوجہ کے مطابق’بازار ابھی اور گرے گا۔اسے سنبھلنے میں وقت لگے گا‘۔ آہوجہ بتاتے ہیں کہ امریکہ اس وقت اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے وہاں کے بڑے سرمایہ کاروں نے اپنا پیسہ نکال لیا کیونکہ انہیں وہاں بھی بڑے خسارے سے گزرنا پڑا ہے۔ طویل عرصہ کے لیے سرمایہ لگانے والوں کو بھی حالانکہ خسارے سے گزرنا پڑا رہا ہے لیکن انہیں یہ نقصان صرف کاغذ پر ہوا ہے اور بعد میں جب بازار سنبھلے گا تو انہیں فائدہ ہو گا۔ ایسے ہی سرمایہ کار کانتی لال بوڈا ہیں جنہوں نے بھیل، جی ایم آر جیسی کمپنیوں میں سرمایہ لگایا۔ ان کی کمپنیوں کو پچاس فیصد کا نقصان ہوا ہے لیکن وہ اس سے بچے ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں ممبئی بازارِ حصص میں مندی جاری22 January, 2008 | انڈیا ممبئی بازارِ حصص میں تیزی08 January, 2008 | انڈیا بازار حصص میں تیزی، روپے کی مضبوطی پر تشویش27 September, 2007 | انڈیا قرضوں کے دباؤ میں خودکشیاں21 September, 2007 | انڈیا انڈیا: شیئر انڈیکس میں اضافہ19 September, 2007 | انڈیا ممبئی سٹاک مارکیٹ میں مندی11 August, 2007 | انڈیا بھارت:’شدت پسند بازار حصص میں‘ 15 February, 2007 | انڈیا انڈیا: ریکارڈ شرح ترقی کی امید07 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||