ممبئی میں مہنگائی اور متوسط طبقہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں زمین کے داموں میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ اب محض دو کمروں کا چھوٹا فلیٹ بھی اوسط طبقہ کی دسترس سے باہر ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے اب بڑی تعداد میں متوسط طبقہ ممبئی سے نقل مکانی کر کے اس کے مضافات میں رہنے پر مجبور ہے۔ ممبئی میں زمین کی قیمت بارہ ہزار روپے مربع فٹ سے شروع ہوتی ہے اور پھر یہ قمیت ستانوے ہزار آٹھ سو بیالیس روپیہ مربع فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ اسی قیمت پر حال ہی میں نریمان پوائنٹ پر چار بیڈ روم ہال کا ایک فلیٹ چونتیس کروڑ روپے میں فروخت ہوا ہے جسے ایک ہندستانی نژاد برطانوی مقیم شخص نے خریدا ہے۔ پرانی ممبئی جس کی حد ماہم کے علاقے تک ہے وہاں پرانے وقتوں سے چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔اب رفتہ رفتہ یہاں بھی بلڈروں نے بلڈنگیں خریدنی شروع کر دی ہیں۔عالیشان ہوٹل، شاپنگ مالز اور شاندار ہاؤسنگ کامپلیکس بنانے کے لیے انہوں نے مکانات بھی خریدنے شروع کر دیے ہیں۔ وہ لوگ جن کے خاندان بڑھ گئے ہیں وہ بلڈر سے دگنی رقم حاصل کر کے مضافات کا رخ کرنے لگے ہیں۔ ممبئی سے آگے تھانے کی حدود میں ممبرا اور کوسہ اسی طرح آباد ہوا۔ یہاں لوگوں کو ممبئی کے مقابلے میں کم قیمت میں مکانات مل گئے اور بقیہ رقم سے انہوں نے یا تو تجارت شروع کر دی یا پھر کوئی دکان خرید لی جس کا کرایہ ماہانہ آمدنی میں اضافہ کا باعث بنے۔ ممبئی سینٹرل علاقے میں حال ہی میں شاپنگ مال بنا ہے۔ وہاں رہنے والوں کے لیے بلڈر نے مال کے عقب میں کثیر منزلہ رہائشی کامپلیکس بنایا ہے۔ معراج انصاری وہیں رہتے تھے لیکن انہوں نے اس کامپلیکس میں فلیٹ لینے کے بجائے بلڈر سے اس کے بدلے رقم لینا منظور کیا۔ انصاری کہتے ہیں: ’اس کثیر منزلہ عمارت میں رہنے کا مطلب تھا ماہانہ چھ ہزار روپیہ تاکہ اس کی دیکھ ریکھ کا بل ادا کروں جو مجھ جیسے ملازمت پیشہ شخص کے بس کی بات ہی نہیں تھی اس لیے میں نے وسئی میں ایک مکان خرید لیا ہے اور بقیہ رقم کو فکسڈ ڈپازٹ میں جمع کر دیا ہے۔‘
ورلی میں چھوٹی چالیوں کو بلڈر نے خریدنا شروع کر دیا، یہاں کثیر منزلہ ہوٹل بنایا جا رہا ہے۔ ممبئی کے مضافات کی اگر بات کریں تو باندرہ مشرق کا باندرہ کرلا کامپلیکس ایک ’شاندار تجارتی جنت‘ بن کر ممبئی کے نقشہ پر ابھر رہا ہے۔ یہاں برطانوی اور امریکی قونصل جنرل کے دفاتر کے علاوہ انکم ٹیکس ریزرو بینک آف انڈیا، یو ٹی آئی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک اور کئی غیرملکی کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں اور یہ علاقہ ہیروں کا ایشیاء کا سب سے بڑا بازار بن رہا ہے۔ یہاں زمین کی قیمت آسمان چھو رہی ہے۔اس لیے اس کے اطراف میں بسی جھوپڑ بستی بھارت نگر کے مکینوں کو منہ مانگی قیمت دے کر خالی کرایا جا رہا ہے۔ یہاں سے خالی کر کے گئے لوگوں نے ممبئی کے دور افتادہ علاقہ میرا روڈ کو اپنا دوسرا گھر بنایا ہے۔ میرا روڈ میں سٹیٹ ایجنٹ ناصر ٹیچر کے مطابق یہاں زمین کی قیمت اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن بھارت نگر سے آئے لوگوں نے یہاں دام میں اضافہ کر دیا ہے۔ بلڈرز ان سے منہ مانگی رقم وصول کر رہے ہیں۔ ناصر کے مطابق یہاں آج سے چند ماہ قبل زمین کی قیمت دو سے ڈھائی ہزار مربع فٹ تھی جو بڑھ کر چار سے چھ ہزار روپے مربع فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ صرف رہائشی ہی نہیں تجارتی زمینوں کی قیمت بھی میں چار سے چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ باندرہ کرلا کامپلیکس جو ممبئی میں نریمان پوائنٹ علاقے کے بعد ممبئی کا دوسرا سب سے مہنگا علاقہ ہے۔ یہاں محض سترہ ایکڑ زمین دو لاکھ سات سو نوے ہزار کروڑ روپے میں فروخت ہوئی جسے وادھوا بلڈرز نے خریدا ہے۔ یہ ہندوستان کی اب تک کی سب سے بڑی بولی مانی جا رہی ہے۔
وکیل کے مطابق حدود بندی سے آزاد کی گئی زمین میں سے محض دو سے تین ہزار ایکڑ زمین ہی رہائشی مقصد کے لیےاستعمال ہوگی اور اگر حالیہ منظر نامہ پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں بھی ملکی اور غیرملکی سرمایہ کار سرمایہ لگائیں گے جیسا کہ ممبئی کے بیشتر علاقوں میں ہو رہا ہے۔ بلڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین آنند گپتا کا بھی یہی خیال ہے: ’مجھے نہیں لگتا کہ زمین کے دام کم ہوں گے البتہ زیادہ ہاؤسنگ کامپلیکس بن سکتے ہیں اور لوگوں کی رہائش کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‘ بڑھتی قیمتوں کا سب سے زیادہ فائدہ بلڈرز کو ہو رہا ہے۔صالحہ خان نے تین سال قبل اندھیری میں ساگر بلڈرز کے مجوزہ ہاؤسنگ کامپلیکس میں اپنا فلیٹ بک کیا تھا۔ ڈھائی ہزار مربع فٹ سے انہوں نے بکنگ کی تھی لیکن آج اسی عمارت میں ساڑھے سات ہزار روپے مربع فٹ سے فلیٹ کی بکنگ ہو رہی ہے۔ مہاراشٹر کے وزیراعلی ولاس راؤ دیشمکھ کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی کو دوسرا شنگھائی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مہاڈا کے ایک افسر کے مطابق اسی رخ پر کام کرتے ہوئے ممبئی کی پرانی عمارتوں کو توڑ کر کامپلیکس بنانے کا کام بھی جاری ہے۔ ممبئی میں غیرملکی کمپنیوں کے دفاتر کھل رہے ہیں اور غیرملکی سرمایہ کاری نے ممبئی کی زمینوں کے داموں میں زبردست اضافہ بھی کیا ہے۔اس لیے متوسط طبقہ اتنے مہنگے داموں پر یہاں اب فلیٹس خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اسی لیے وہ ممبئی کے دور مضافات کا رخ کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں کپلنگ کا گھر بنےگا میوزیم28 November, 2007 | انڈیا ممبئی بازارِ حصص میں زبردست مندی17 October, 2007 | انڈیا ممبئی سٹاک مارکیٹ میں مندی11 August, 2007 | انڈیا ممبئی میں عمارت منہدم، 20 ہلاک18 July, 2007 | انڈیا تعلیم مخالفوں سے تحفظ کی اپیل 12 June, 2007 | انڈیا ایک بہت بڑی جھوپڑ بستی کا نیا روپ 03 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||