کپلنگ کا گھر بنےگا میوزیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگریزی ادب کے مشہور ادیب اور شاعر ردیارڈ کِپلنگ کی ممبئي میں جائے پیدائش کو آرٹ میوزیم میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو 2009 تک پورا کیا جائے گا جس کے لیے ریاست مہاراشٹر کی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ کِپلنگ ممبئی میں جس گھر میں پیدا ہوئے تھے اب وہ گھر ممبئی کے مشہور جے جے اسکول آف آرٹس کے احاطے میں واقع ہے۔ لکڑی اور پتھر سے بنی یہ دو منزلہ عمارت سو سالوں سے بھی پرانی ہے لیکن وقت کے تھپیڑوں کا زیادہ اثر نہيں دکھتا اور عمارت بہتر حالت میں ہے۔ سن 1850 سے لیکر عصر حاضر تک کی تمام پیٹنگز کا ایک بڑا ذخیرہ اس آرٹ کالج کے پاس ہے اور اب وہ سب میوزیم کا حصہ ہونگیں۔ اس میوزیم میں ردیارڈ کِپلنگ کی مشہور کہانی ’جنگل بُک‘ اور مشہور نظم ’اف‘ کے علاوہ ردیارد کِپلنگ سے جڑے ہوئے اثاثے بھی شامل ہونگے۔ میوزیم میں ’کِپلنگ روم‘ کے نام سے ایک خاص کمرہ بھی بنایا جائے گا۔
وکاس دلاوری کا کہنا ہے: ’ہماری جانب سے یہ ایک مشہور ادیب کو خراج عقیدت ہے جن کی پیدائش ممبئی میں ہوئی تھی۔‘ ردیارڈ کِپلنگ انگریزی ادب کے ایک مشہور ادیب اور شاعر ہیں اور انہیں انگریزی ادب کا سب سے پہلا نوبل اعزاز ملا تھا۔ آرٹس اور ادب کی مداح سنگیتا جندل کہتی ہیں کہ ممبئی کے عوام کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ادیب کی یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں۔’کِپلنگ بچپن میں ہی انگلینڈ چلے گئے تھے لیکن وہ ممبئی کو کبھی نہیں بھولے اور اس شہر کو دنیا کا سب سے خوبصورت شہر کہتے رہے۔‘ سن 1865 میں کِپلنگ کے والد جان لوکوڈ جے جے اسکول آف آرٹس کے ڈین مقرر کیے گئے تھے اور محض چھ برس تک کِپلنگ اپنے والد کے ساتھ ممبئی میں رہے۔ اس کے بعد انہیں تعلیم کے لیے انگلینڈ بھیج دیا گیا۔ جان لوکوڈ نے آرٹس اور جمالیات کے شعبے میں کافی شہرت حاصل کی تھی۔ 19ویں صدی کے ممبئی میں کئی عمارتوں کی تعمیر ان کی جمالیاتی حس سے متاثر رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں قرۃ العین، ایک گھنا درخت: شہریار24 August, 2007 | انڈیا ’سورج کو جھونکا ہوا کا بجھا گيا‘21 August, 2007 | انڈیا مسافر ساٹھ برسوں کے، ابھی تک ۔۔۔03 September, 2007 | انڈیا ’اقبال کا پیغام پھیلانا چاہتا ہوں‘ 30 August, 2006 | انڈیا دِلّی میں اردو کا جشن20 November, 2005 | انڈیا کتھوں قبراں وچوں بول:امرِتانہیں رہیں31 October, 2005 | انڈیا ایک شاعر، پوئٹِک جسٹس کے انتظار میں؟23 September, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||