ارشاد الحق پٹنہ |  |
 | | | پرویز مشرف کے دور کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں فیمینزم تحریک کامیاب رہی ہے |
پاک ہند کے ممتاز اردو ادیب انتظار حسین کہتے ہیں کہ پاکستان میں وقفہ وقفہ سے ڈکٹیٹرشپ آنے سے جہاں ادب میں بولڈنیس کا فقدان ہوا ہے وہیں گزشتہ آٹھ برسوں میں ادب اور سیاست میں خواتین کا دخل اور ان کی آواز مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے۔ متعدد مشہور افسانوں اور ناولوں کے خالق انتظار حسین نے گزشتہ دنوں پٹنہ یونیور سٹی میں اردو صحافت کے ڈپلوما کورس کا افتتاح کرنے کے بعد ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ پاکستان میں اب تک کوئی حکومت، وہ سول ہو یا آرمی، عوام کی نمائندہ نہیں رہی ہیں لیکن پرویز مشرف کے دور کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں فیمینزم تحریک کامیاب رہی ہے۔ انتظار حسین ان دنوں ہندوستان کے معتبر ادبی ادارے ساہتییہ اکادمی کی طرف سے دی گئی منشی پریم چند فیلوشپ کے سلسلے میں ہندوستان میں ادب کی موجودہ صورت حال پرمطالعہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں پاکستانی حکومت نے حقوق نسواں سے متعلق متعدد بل منظور کیے ہیں جن کا براہ راست اثر پاکستانی ادب پر بھی پڑا ہے۔ خواتین کا ادب میں نہ صرف عمل دخل بڑھا ہے بلکہ ان کی آواز بھی کافی بولڈ ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ گزشتہ ایک دہائی کی سیاسی صورت حال پر غور کریں تو محسوس کریں گے کہ خواتین پاکستانی سیاست میں بھی اپنی گرفت مضبوط کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انتظار حیسن نے کہا کہ پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کچھ ادیبوں کی تخلیق میں احتجاج کا عنصر کمزور پڑا ہے لیکن اس کا اطلاق تمام ادیبوں پر نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق جن ادیبوں یا شاعروں کی تخلیق کی دھار کند ہوتی ہے انہیں ہی اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ کیا یہ کسی مفاد پرستی کے سبب ہوا ہے۔
 | یہ کس مفاد پرستی کے سبب ہوا   پرویز مشرف کے اقتدار کے بعد کچھ ادیبوں کی تخلیق میں احتجاج کا عنصر کمزور پڑا ہے لیکن اس کا اطلاق تمام ادیبوں پر نہیں ہوتا لیکن جن ادیبوں یا شاعروں کی تخلیق کی دھار کند ہوئی ہے انہیں ہی اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ کیا یہ کس مفاد پرستی کے سبب ہوا ہے  انتظار حیسن |
یہ پوچھے جانے پر کہ آپ کی ادبی تخلیق یا اخباری کالموں میں سیاسی و سماجی حالات پر کبھی براہ راست تنقید کرنے سے بچنے کی وجہ یہ تو نہیں کہ آپ بولنے سے ڈرتےہیں، انتظار حسین کہتے ہیں آپ اسے چاہیں جو نام دیں میں اس پر کچھ بھی بولنا مناسب نہیں سمجھتا۔انتظار حسین نے اپنی عمر کے پہلے بائیس برس ہندوستانی ریاست اتر پردیش میں گزارے اور اعلی تعلییم بھی یہیں حاصل کی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ تقسیم ہند کے بعد اس وقت کے ہندوستانی اور پاکستانی سماج اور موجودہ ہندوستانی اور پاکستانی سماج و ادب میں نصف صدی گزرنے کے بعد کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں؟ انتظار حسین نے کہا کہ تقسیم ہند کے بعد پاکستانی سماج بھی موجودہ ہندوستانی سماج کی طرح کمپوزٹ کلچر کا علمبردار تھا لیکن تقسیم کے بعد وہاں سے سکھ اور ہندو ہجرت کر کے ہندوستان چلے آئے ایسے میں وہاں کا کلچر ایک یونیفارم مسلم کلچر میں تبدیل ہو گیا جس کا سیدھا اثر پاکستانی ادب پر بھی پڑا اور آپ دیکھیں تو پاکستان میں ادبی تخلیق تقسیم ہند کے بعد بالکل مختلف ہو گئی۔ دوسری طرف آبادی کے تبادلے کے بعد بھی ہندوستان میں کمپوزٹ کلچر برقرار رہا جس کے سبب آج بھی تخلیق کے تعلق سے ادیبوں کے لیے یہاں رنگا رنگ مواد موجود ہے۔ انتظار حسین نے ایسے لوگوں کی باتوں کو بے بنیاد قرار دیا جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں اردو کو کمزرو پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے تعلق سے منفی سوچ رکھنے والوں کو یہ جان کر حیرت انگیز خوشی ہوگی کہ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں اردو صحافت کافی مؤثر بن کر ابھری ہے اور روز بروز اردو اخباروں کے اشاعت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تقسیم ہند کے فوراً بعد ہندوستان کے اردو اخبارات اتنے مضبوط اور ان کی اشاعت اتنی زیادہ نہیں تھی۔ انتظار حیسن سارک ممالک کے پہلے ایسے ادیب ہیں جنہیں منشی پریم چند فیلوشپ سے نوازا گیا ہے۔ انتظار حسین اس برس کے آخر تک ہندوستانی ادب کی موجودہ صورت حال سے متعلق رپورٹ ساہتیہ اکادمی کو پیش کریں گے۔ |